چیئرمین نیب کو کسی بھی ملزم کیخلاف سزا دینے کے الفاظ استعمال کرنے کا اختیار نہیں ،سابق آرمی چیف کے بھائی کی ڈی ایچ اے سٹی فراڈ کیس ریفرنس خارج کرنیکی درخواست پر فیصلہ سنا دیا گیا

  پیر‬‮ 2 مارچ‬‮ 2020  |  22:39

لاہور( این این آئی)لاہور ہائیکورٹ نے سابق آرمی چیف کے بھائی کامران کیانی کی جانب سے ڈی ایچ اے سٹی فراڈ کیس کاریفرنس خارج کرنے کی درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراض کوبرقرار رکھتے ہوئے خارج کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کامران کیانی کی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا ۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بطور پاکستانی شہری کامران کیانی کو اپنا وکالت نامہ وزارت خارجہ سے تصدق کروا کر درخواست کے ساتھ لگانا چاہیے تھا،کامران کیانی خود آکر درخواست دائر کریں۔ وکیل کامران


کیانی نے کہا کہ جائیداد سے متعلق معاملے میں مختار نامہ اور دیگر دستاویزات کی تصدیق وزارت خارجہ سے کروانا لازم ہے،آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت درخواست گزار ذاتی بیان اور وکالت نامہ نوٹری پبلک سے رجسٹرڈ کروا کر عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔فاضل عدالت نے کہا کہ وزارت خارجہ سے بغیر تصدیق ذاتی بیان کی بنیاد پر ریفرنس خارج کرنے کی درخواست سماعت کیلئے منظور نہیں کی جا سکتی،نوٹری بپلک سے مصدقہ دستاویزات شواہد کے طور پر کیس کا حصہ بنائی جا سکتی ہیں۔کامران کیانی کے وکیل نے موقف اپنایا کہ رجسٹرار ہائیکورٹ نے وکالت نامے کے بیان حلفی کے وزارت خارجہ سے مصدقہ نہ ہونے کا اعتراض لگایا گیا۔ فاضل عدالت نے کہا کہ یہ شخص 5 سال سے بھگوڑا ہے، کیا ملزم کو پہلے سرنڈر نہیں کرنا چاہئے؟ ۔ کامران کیانی کے وکیل نے کہا کہ ابھی تو دفتری اعتراض کی بات ہے ،وزارت خارجہ سے مصدقہ بیان حلفی لف نہ کرنے کا اعتراض بلا جواز ہے، نوٹری پبلک سے مصدقہ دستاویز بھی آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت وزارت خارجہ سے مصدقہ ہونے کے برابر حیثیت رکھتا ہے۔کامران کیانی نے اپنی درخواست گزار میںموقف اپنایا کہ امریکی شہریت کیلئے خاندان سمیت8 مئی 2015 سے پاکستان سے باہر رہ رہا ہوں،پاکستان سے جانے کے بعد نیب نے 12 نومبر 2015 کو ڈی ایچ اے سٹی انکوائری شروع کر دی، احتساب عدالت میں ڈی ایچ اے سٹی کے دائر کئے گئے ریفرنس میں ملزموں کیخلاف کارروائی کر کے سزا دینے کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، چیئرمین نیب کو کسی بھی ملزم کیخلاف سزا دینے کے الفاظ استعمال کرنے کا اختیار نہیں ،عدالتوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ کسی بھی ملزم کو جرم ثابت ہونے پر سزا دے، ڈی ایچ اے سٹی فراڈ کیس میں بدنیتی اور جھوٹ کی بنیاد پر نامزد کیا گیا ہے،نیب نے ڈی ایچ اے سٹی کا ٹھیکہ حاصل کرنے والی کمپنی گلوبیکو کمپنی کے 90 فیصد شیئر رکھنے کا الزام لگایا ہے، آئین پاکستان اور قوانین کے تحت کسی کمپنی کا شیئر ہولڈر ہونا کوئی جرم نہیں ہے،گلوبیکو کمپنی کے تمام شیئرز ملزم حماد ارشد کو فروخت کر دیئے تھے۔ درخواست میں مزید موقف اپنایا گیا کہ گلوبیکو کمپنی کے شیئرز فروخت کرنے کی مد میں حماد ارشد سے 120 پلاٹ خریدے، احتساب عدالت میں دائر کیا گیا ریفرنس آئین کے آرٹیکل 4، 10اے، 18 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔استدعا ہے کہ نیب کا اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے دائر کئے گئے ریفرنس کو کالعدم اوردرخواست کے حتمی فیصلے تک احتساب عدالت میں جاری کارروائی روکی جائے۔


موضوعات: