FATF کی گرئے لسٹ سے نکالنے کے لیے پاکستان کی بھرپور مدد کرنے کیلئے کونسا ملک میدان میں آگیا ، بڑی یقین دہانی بھی کرا دی

  منگل‬‮ 18 فروری‬‮ 2020  |  22:40

اسلام آباد (این این آئی)اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ایف اے ٹی ایف  کے فورم اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیر ی عوام کی خواہشات کے مطابق  مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے نیدرلینڈ کو پاکستان کے ساتھ تعاون کرنے کا کہا۔  اسپیکر نے کہا کہ پاکستان میں موجودہ حکومت نے  سخت مالی ضابطوں کے نفاذ کے ذریعے دہشتگردوں کی  مالی معاونت کی  فراہمی منقطع کردی ہے۔ان خیالات کا اظہا رانہوں نے نیدرلینڈ کے سفیر مسٹر ولیئم واؤٹر پالمپ سے گفتگو کر تے ہوئے کیا جنہوں نے منگل کے روز منگل کے روز پارلیمنٹ ہاؤس


میں اسپیکر سے ملاقات کی۔اسپیکر نے  کہا کہ نیدرلینڈز نے ہمیشہ سے انسانی حقوق  اور شخصی آزادیوں کی حمایت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ نیدر لینڈ کو مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بھارت پر دباؤ ڈالنے کے لیے  کردار ادا کرنے ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ  مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالی پر عالمی برادری کی خاموشی ناقابل فہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ  198 دن کے لاک ڈاون سے مظلوم کشمیریوں کی پریشانیوں میں بے پناہ  اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری  لاک ڈاون کی وجہ سے  کشمیری عوام اپنے ہی گھروں میں قید  ہیں اور خوراک، طبی سہولیات سمیت تمام بنیادی ضروریات بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں۔ کشمیری عوام کی تحریک آزادی کی جدوجہد پر ان کے غیر متزلزل عزم  کو سلام پیش کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ 72سال گزرنے کے باوجود  کشمیری عوام کے  عزم اور حوصلے میں کوئی کمی نہیں آئی۔ایف اے ٹی ایف کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے ، اسپیکر اسد قیصر نے پاکستان کو گرے لسٹ سے  نکالنے کے لئے نیدرلینڈز کو کردار ادا کرنے کے لیے کہا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی اور اس کے مالی معاونین کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے کوشاں ہے اوراس مقصد کے حصول کے لیے  قانون سازی کے ذریعے متعدد  اقدامات اْٹھائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی اور عسکریت پسندی کی ناسورکی وجہ سے پاکستان کو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات اْٹھانا پڑے ہیں۔انہوں نے پاکستان کی مسلح افواج  اور قانون نافذ کرنے والےاداروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے عزم اور جزبہ حب الوطنی اور لازوال قربانیوں کی بدولت پاکستان دہشتگردی کی اس لعنت پر قابو پانے میں کامیابی کی راہ پر گامزن ہے۔ہالینڈ کے ساتھ پاکستان کے تاریخی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ پاکستان ہالینڈ کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور پارلیمانی اور اقتصادی تعاون کے ذریعے انہیں  مزید مستحکم بنانے کا خواہاں ہے۔اسپیکر نے دونوں ممالک کی  پارلیمانی کمیٹیوں کے مابین روابط کو فروغ دینے کی  ضرورت پر  زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ نیدرلینڈ آلو کے بیج ، ڈیری فارمنگ لائیوسٹاک اور کمرشل بنیادوں پر پھولوں کی افزائش کے شعبوں میں مہارت رکھتا ہے۔ انہوں نے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے زرعی پیداوار اور نیدرلینڈ کی پارلیمانی کمیٹی برائے زراعت کے مابین  مذکورہ شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت کی تجویز دی۔اسپیکر نے سی پیک سے پیدا ہونے والے معاشی مواقع میں نیدرلینڈ کے سرمایہ کاروں شرکت کی دعوت دی۔  انہوں نے کہا کہ سی پیک   نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لئے گیم چینجر کی اہمیت کا حامل ہے اس سے خطے میں روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو گا اور ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے دور دکا آغاز ہو گا۔ نیدرلینڈ کے سفیر مسٹر ولیم واؤٹر پلمپ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مسئلہ کشمیر علاقائی امن کے لئےایک فلیش پوائنٹ کی حیثیت رکھتا ہے اور اس مسئلے کو کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک دہشت گردی کی مالی معاونت کے خاتمے کے لئے سخت اقدامات کرنے پر حکومت پاکستان کی کوششوں کو سراہتا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ہالینڈ FATF کی گرئے لسٹ سے نکالنے کے لیے پاکستان کی بھرپور مدد کرے گا۔انہوں نے گذشتہ چار دہائیوں سے افغان مہاجرین کی میزبانی اور مدد کرنے پر پاکستان کی تعریف کی۔ سفیر نے پارلیمانی دوستی گروپ کی سطح پر ملاقاتوں اور دوروں کے ذریعے دونوں ممالک کے مابین پارلیمانی رابطوں کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔سفیر نے اسپیکر کو یقین دلایا کہ ڈچ سرمایہ کار  پاکستان میں معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیدرلینڈز اور پاکستان کے مابین زراعت کے شعبے میں باہمی تعاون  طویل عرصے سے جاری ہے ، تاہم ، ڈیری ، ماہی گیری ، اور فلوریکلچر سیکٹرز میں تعاون بڑھانے کی تجویز سے اتفاق کیا۔  انہوں نے پلانٹ بریڈرز کے حقوق کے تحفظ کے لئے قانون سازی اور قوانین پر سخت عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔


موضوعات: