سی ڈی اے کی ملی بھگت، 255 سے زائد غیر قانونی عمارتیں بلندیوں تک پہنچ گئیں، قومی خزانے کو سالانہ بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کا انکشاف

  اتوار‬‮ 15 دسمبر‬‮ 2019  |  22:20

اسلام آباد(آن لائن) سی ڈی اے کی ملی بھگت سے وفاقی دارالحکومت میں 255سے زیادہ عمارتیں غیر قانونی طور پر بلندیوں کی سطح پرپہنچ چکی ہیں جبکہ وفاقی دارلحکومت کے کمرشل پلازوں کے بل بورڈ زکی عدم ریکوری کی مد میں قومی خزانے کوسالانہ 1ارب سے زیادہ کا نقصان پہنچائے جانے کا انکشاف ہوا ہے بلیو ایریا میں 140عمارتوں کے خلاف 80سے زیادہ شکایات سی ڈی اے کو موصول ہوئیں لیکن ایکشن لینے کے بجائے ان عمارتوں کے مالکان کے ساتھ مک مکا شروع کر دیا گیااربوں روپے کے سکینڈل سی ڈی اے کے شعبہ بی سی ایس اور پلاننگ


ونگ افسران کے خلاف موجود ہیں اسلام آباد کے بڑے ہوٹل مالکان نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رکھے ہیں سرینا ہوٹل مالکان نے کئی کنال اراضی پر اضافی قبضہ کر رکھا ہے جس کے لئے کئی بار پبلک اکاونٹ کمیٹی نے بھی سی ڈی اے کو باور کرایا گیا لیکن تا حال ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جا سکا۔ذرائع نے بتایا کہ سی ڈی اے میں کئی ایسے افسران موجود ہیں اور متعدد ریٹائر ہو چکے ہیں جن کی وساطت سے اسلام آباد میں تقریبا 750ایکٹر اراضی بڑے بڑے محلوں کوبیوٹفکیشن کی مد میں غیر قانونی طور پردی جا چکی ہے اگر یہی اراضی الاٹ کی جاتی تو سی ڈی اے کا اس رقم سے کم از کم 2سیکٹر ڈویلپ کئے جا سکتے تھے کیونکہ مہنگے ترین سیکٹروں میں 750ایکٹر پر مشتمل اراضی کی قیمت 100ارب روپے بنتی ہے ادھر سی ڈی اے کے افسران کو جب کسی عدالت کی طرف سے غیر قانونی بلڈنگز کو گرانے یا انکروچمنٹ ختم کرنے کے احکامات جاری ہوتے ہیں تو یہ لوگ کچی بستیوں یا کم آمدنی والے گھرانوں کی اکھاڑ بچھاڑ کا سلسلہ شروع کر کے خانہ پر ڈال لیتے ہیں ذرائع نے بتایا کہ سی ڈی اے میں کوئی بلڈنگ بائی لاز موجود نہیں جو جہاں چاہتا ہے وہاں زمینوں پر قبضے جما کر سوسائٹیاں بنا لیتا ہے اور ہزاروں پلاٹ اشتہارات کے ذریعے سے فروخت کر کے عوام کی جیبیں خالی کی جاتی ہیں جب سی ڈی اے سے کوئی پوچھتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ ہمارے پاس اس کا ریکارڈ موجود نہیںبڑی بڑی بلڈنگزبن جاتی ہیں لیکن سی ڈی اے آنکھیں بند رکھتا ہے کئی سال گزر گئے سی ڈی اینے عوامی حلقوں کے لئے کوئی نیا سیکٹر پلان کیا نہ پرانے سیکٹروں کو ڈویلپ کیا گیا سی ڈی اے کی طرف سے ماڈل ویلیج شہزاد ٹاون میں بنایا گیا پارک انکلیو بھی قبضہ مافیا کی بھینٹ چڑھ چکا ہے مافیا نے سی ڈی اے کی ملی بھگت سے55 کنال اراضی پر قبضہ جما لیا ہے اور مذید قبضے کئے جا رہے ہیں جبکہ بنی گالا میں سی ڈی اے کے قوانین کی دھجیاں بلند و بالا عمارتیں بنائی جا چکی ہیں جو سی ڈی اے کے پلان میں موجود ہی نہیں ذرائع نے کہا کہ اسلام آباد کے زون فور 75 ہزار ایکڑ پر مشتمل ہے۔جس میں بیشمار ہاؤسنگ سوسائیٹیاں قائم ہوچکی ہیں۔ زیادہ تر ہاوسنگ سوسائٹیاں غیر قانونی ہیں۔ سی ڈی اے نے ان ہاؤسنگ سوسائیٹوں میں کچھ لوگوں کو گھر اور فارم ہاؤس بنانے کی اجازت دے رکھی ہے۔ادھر ایم سی آئی کے زیر کنٹرول ڈی ایم اے کے افسران نے وفاقی دارالحکومت کے کمرشل پلازوں پر نصب کئے گئے بل بورڈز کے ٹیکس لینے کے بجائے ان سے منتھلیاں لگا رکھی ہیں جس سے قومی خزانے کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے ڈی ایم اے ذرائع نے بتایا کہ ڈائریکٹر ڈی ایم اے ظفر اعوان میئر شیخ انصر کا چہتا ہے اور جو مرضی آئے کر تا جس پر کوئی چیک اینڈ بیلینس نہیں مذکورہ افیسر جہاں سے منہ مانگی رشوت نہ ملے وہاں آپریشن کر دیتے ہیں اور جہاں رشوت ملے وہاں اربوں روپے کی قابض اراضی کو واگزار نہیں کیا جاتا۔

موضوعات: