حکومت بلوچستان نے تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش،برآمدگی میں 50فیصدحصے کا مطالبہ کرتے ہوئے معاہدوں کی توسیع سے انکار کردیا،دوٹوک اعلان

  جمعرات‬‮ 14 ‬‮نومبر‬‮ 2019  |  23:19

کوئٹہ (این این آئی)حکومت بلوچستان نے تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش اور برآمدگی میں 50فیصدحصہ صوبے کا مطالبہ کرتے ہوئے سابقہ شراعط پر ہونے والے معاہدوں کی توسیع سے انکار کردیا ہے جس کے بعد وفاقی وزراء مایوس ہوکر واپس لوٹ گئے۔، باثوق ذرائع نے این این آئی کو بتایا کہ جمعرات کووفاقی وزیر پیٹرولیم و توانائی عمر ایوب، پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء جہانگیر خان ترین،ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری سمیت دیگر خصوصی طیارے میں کوئٹہ پہنچے،وفد نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں وزیراعلیٰ جام کمال خان سمیت کابینہ کے دیگر اراکین کے ساتھ طویل مشاورتی


نشست کی، جس میں 2015میں سوئی گیس فیلڈ کی لیز کے ختم ہونے والے معاہدے میں توسیع، پاک ایران ریفائنری کیلئے 1996ء میں وفاق کو الاٹ کی جانے والی 1800 ایکڑ اراضی کی لیز جسے حکومت بلوچستان نے منسوخ کردیا ہے کی دوبارہ بحالی کے حوالے سے بات چیت کی گئی،وفاقی وفد نے موقف اختیار کیا کہ سوئی گیس فیلڈ کی لیز کی معیاد 2015 میں ختم ہوگئی تھی جسے تاحال ایس آر او کے ذریعے چلایا جارہا ہے وفاقی حکومت کے نمائندوں کی جانب سے حکومت بلوچستان اور وزیر اعلیٰ سے اس کی لیز کی میعاد میں توسیع کرنے کے لئے کہا گیاجبکہ وفد کی جانب سے 1996 میں گڈانی کے علاقے میں وفاق کو الاٹ کی جانے والی اراضی کی لیز کو بھی دوبارہ بحال کرنے کا کہا گیا  تاکہ آئل ریفائنری اینڈ پیٹرو کیمیکل انڈسٹری کا قیام عمل میں لایا جاسکے جس پر وزیراعلیٰ جام کمال خان نے واضح موقف اپناتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی سرزمین سے نکلنے والے قدرتی وسائل اور زمین صوبے کے عوام اور حکومت بلوچستان کی ملکیت ہیں ہم کسی بھی صورت سابقہ شرائط پر ہونے والے معاہدوں کی توسیع یا توثیق نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں غلط طرز پر ہونے والے معاہدوں کی وجہ سے آج بلوچستان کے لوگوں میں احساس محرومی پایا جاتا ہے موجودہ حکومت اس طرح کا کوئی اقدام نہیں اٹھائے گی جس سے بلوچستان کے عوام کے حقوق کی حق تلفی ہوانہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ تمام معاہدے بین الاقوامی معیار اور قوانین کے مطابق ہوں جس میں حکومت بلوچستان اور صوبے کے عوام کے مفاد ات کو مد نظر رکھا جائے،انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی سرزمین اور معدنی وسائل صوبے کے عوام کی ملکیت ہیں اور وہی اس کے اصل وارث ہیں اگر نئی شرائط پر لیز کے معاہدے میں توسیع کرنی ہے تو ہمارے ساتھ بیٹھ کربات کی جائے وزیراعلیٰ نے کہا کہ 1996ء میں پاک ایران آئل ریفائنری کے قیام کیلئے (PEIRAC) کو گڈانی میں 5000 پانچ ہزار روپے فی ایکڑ کے حساب سے 1800 ایکڑ اراضی الاٹ کی گئی تھیتاہم اس اراضی پر ریفائنری کی تنصیب اور قیام کے حوالے سے کوئی کام نہیں ہوا جس کے بعد بلوچستان حکومت نے اس لیز کو منسوخ کردیا ہے  وزیر اعلیٰ جام کمال نے کہا کہ ہم اپنی زمین،پورٹ ساحل وسائل کو چند مفادات کیلئے کوڑیوں کے بھاؤنہیں دے سکتے اور نہ ہی عوام کے مفاد کے خلاف کسی بھی شرائط یا قواعد و ضوابط کے برخلاف کوئی معاہدہ کرسکتے ہیں کیونکہ عوام نے ہمیں اپنی خدمت اور صوبے کی پسماندگی لوگوں میں پائے جانے والے احساس محرومی کو دور کرنے کیلئے جو ذمہ داری دی ہے اس کو احسن طریقے سے موجودہ ویلیو اور دیگر قواعد کے مطابق زمین دیں گےآئل ریفائنری میں بلوچستان کا حصہ ہوگا کسی بھی معاہدے میں صوبہ  شراکت دار بن کر معاہدہ کریگابصورت دیگر کوئی ایسا غلط فیصلہ نہیں کرینگے جس سے صوبے کے عوام کو نقصان پہنچے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے وفاقی وزراء کو آئین کی شق 172 کے سب سیکشن 3 کے تحت بلوچستان سے تیل و آئل کے ذخائر تلاش کرنے کا معاہدہ قانون کے مطابق اس میں بلوچستان اور وفاق برابر کے حصہ دار ہیں اس پر انہوں نے اصرار کرتے ہوئے کہا کہ قانونی اور عوام کے مفادات کو مد نظر رکھ کر صوبے کی سرزمین کے حوالے سے تمام معاہدے کریں گے اس کے خلاف کسی بھی معاہدے کو کرنے کے مجاز نہیں جس کے بعد وفد مایوس ہو کر جمعرات کی شام واپس اسلام آباد روانہ ہوگیا۔

موضوعات:

loading...