نیب نے بدعنوانی کے مزید 3 ریفرنسز دائر کرنے کی منظوری دیدی

  بدھ‬‮ 16 اکتوبر‬‮ 2019  |  23:34

اسلام آباد (این این آئی) چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ،بدعنوان عناصر سے لوٹی گئی رقوم برآمد کرنے کیساتھ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی نہ صرف اولین ترجیح ہے بلکہ اس کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں،گزشتہ 23 ماہ میں 71 ارب روپے بلواسطہ اور بلا واسطہ طور پر بدعنوان عناصر سےبرآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائے جو ریکارڈکامیابی ہے۔بدھ کو قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جسٹس جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹر ز اسلام


آبادمیں منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈپٹی چئیرمین نیب، پراسیکیوٹر جنرل اکاؤ نٹبلٹی نیب،ڈی جی آپریشن نیب، ڈی جی نیب راولپنڈی اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں بدعنوانی کے3 ریفرنسزد ائر کرنے کی منظوری دی گئی۔ ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں خواجہ انور مجید اور دیگرکے خلاف بد عنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔ملزمان پر مبینہ طورپرمنی لانڈرنگ اور بدعنوانی کاالزام ہے۔جس سے قومی خزانے کومبینہ طورپر تقریباََ34کروڑ روپے کا نقصان پہنچا۔ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں سید عارف خان ڈائریکٹر /شراکت دار میسرزکینال ویو اور دیگرکے خلاف بد عنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔ملزمان پر مبینہ طورپرعوام کو دھوکہ دہی کاالزام ہے۔جس سے قومی خزانے کومبینہ طورپر تقریباََ266 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس سعادت انور سابق چئیرمین بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (BDA) کے خلاف بد عنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔ملزم پر مبینہ طورپرآمدن سے زائداثاثے بنانے کا الزام ہے۔قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں نصار احمد افضل،صغیر احمد افضل اوردیگر کے خلاف انوسٹی گیشن کی منظوری دی گئی۔قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں 03انکوائریوں کی منظوری دی گئی۔جن میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے افسران و اہلکاران،یونیکارن پریسٹیج ہوٹل لاہور کے مالکان /انتظامیہ اور دیگر، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی(SBCA)/ کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن (KMC)کے افسران و اہلکاران و دیگر اوربلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کوئٹہ کی انتظامیہ اور دیگر کے خلاف انکوائریز شامل ہیں۔ قومی احتساب بیورو کےایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں پنجاب انرجی ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ کی انتظامیہ /افسران و اہلکاران کے خلاف انکوائری نیب لاہور میں جاری 56کمپنیز میں افسران کی تعیناتی کے ساتھ منسلک کرنے،فضل امین،سراج الدین اور دیگر کے خلاف انکوائری اینٹی نارکوٹکس فورس کو بھجوانے کے علاوہ سعید احمد خان چئیرمین اوگرااور دیگر کے خلاف انکوائری اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں، عبد الولی خان یونیورسٹی مردان کے افسران و اہلکاران اوردیگر اور آئی این جی اوز/این جی او ز(ایس ڈی پی آئی(SDPI)، فافن (FAFEN)،FAOرورل پروگرام) کی انتظامیہ اور دیگر کے خلاف اب تک عدم شواہد کی بنیاد پرقانون کے مطابق انکوائریز بند کرنے کی منظوری دی۔ چئیرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ اور بدعنوان عناصر سے لوٹی گئی رقوم برآمد کرنے کے ساتھ ساتھ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی نہ صرف اولین ترجیح ہے بلکہ اس کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیب نے گزشتہ 23 ماہ میں 71 ارب روپے بلواسطہ اور بلا واسطہ طور پر بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائے جو کہ ایک ریکارڈکامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ اکنامک فورم نے اپنی حالیہ رپورٹ میں نیب کی آگاہی، تدارک اور انفورسمنٹ کی شاندا ر حکمت عملی کو سراہا ہے جو پاکستان کے ساتھ ساتھ نیب کیلئے ایک اعزازکی بات ہے۔"نیب کا ایمان -کرپشن فری پاکستان "ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے 179 میگا کرپشن میں 105 میگاکرپشن کے مقدمات میں معزز احتساب عدالتوں میں بدعنوانی کے ریفرنس دائر کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی سزا دلوانے کی مجموعی شرح 70 فیصدہے۔نیب نے 41 میگا کرپشن مقدمات کو منطقی انجام، 15 میگا کرپشن مقدمات میں انکوائری اور18 میگاکرپشن مقدمات میں انوسٹی گیشنزجاری ہیں۔نیب نے گزشتہ 23 ماہ میں 600 مقدمات میں بدعنوانی کے ریفرنس معزز احتساب عدالت میں دائرکئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب مضاربہ/مشارکہ کے 44 ملزمان کو گرفتار کرکے ان سے عوام کی لوٹی گئی اربوں روپے کی رقوم برآمد کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیزکی بڑھتی ہوئی تعداد کو روکنے کیلئے عوام کو ان کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ ریگولیٹرز کو اپنا بھر پورکردار بروقت ادا کرنا چائیے تاکہ غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا بروقت تدارک کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہااخبارات اور الیکٹر انک میڈیا کو بھی ہاوسنگ سوسائٹیزکی اشتہاری مہم کی تشہیر کرنے سے پہلے چند ضروری چیزیں جن میں ہاوسنگ سوسائٹی کی منظوری، NOC اور لے آوٹ پلان کی منظوری شامل ہے کا جائزہ لینا چائیے کیونکہ بعض ہاؤسنگ سوسائٹیز مبینہ طور پر صرف کاغذوں میں موجود ہوتی ہیں اور انہوں نے متعلقہ ریگولیٹرز سے منظوری نہیں لی ہوتی۔اس کے باوجود وہ مبینہ دھوکہ دہی اور پرکشش تشہیری مہم کے ذریعے عوام کی عمربھر کی کمائی لوٹنے کا سبب بنتی ہیں۔ انہوں نے تما م ریگولیٹرز جن میں ایل ڈی اے، سی ڈی اے، آر ڈی اے، بی ڈی اے، پی ڈی اے، ایم ڈی اے، آئی سی ٹی اور گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور دیگرز کو ہدایت کی کہ ان کے دائرہ اختیار میں آنے والی منظور شدہ ہاؤسنگ سوسائٹیز کی لسٹیں نہ صرف ریگولیٹرز اپنے اداروں کی ویب سائٹ پر آویزاں کریں بلکہ غیر قانونی سوسائٹیز کے بارے میں عوام کو بروقت ا نتباہ کیا جائے تاکہ وہ مبینہ طور پردھوکہ دہی اور پرکشش تشہیری مہم کے ذریعے عوام کی عمربھر کی کمائی لوٹنے والی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے جھانسے میں نہ آئیں۔

loading...