سڑک سے گرفتار کرکے حوالات میں بند کر دیا،عدالت میں معلوم ہوا ہیروین برآمد کی گئی،رانا ثنا اللہ: ریمانڈ میں مزید کتنی توسیع کر دی گئی؟

  ہفتہ‬‮ 14 ستمبر‬‮ 2019  |  11:51

لاہور(سی پی پی) انسداد منشیات کی عدالت نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی رانا ثنااللہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کردی۔لاہور کی انسداد منشیات کی عدالت میں مسلم لیگ(ن) کے رہنما رانا ثنااللہ کے خلاف منشیات اسمگلنگ کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں اینٹی نارکوٹکس فورس کے حکام نے انہیں عدالت کے روبرو پیش کیا۔رانا ثنااللہ کی جانب سے بطور وکیل اعظم نذیر تارڑ اور فرہاد علی شاہ نے عدالت میں دلائل دیے۔اے این ایف حکام نے عدالت کو بتایا کہ رانا ثنااللہ سے 15 کلو ہیروئن برآمد ہوئی جس پر


جج خالد بشیر نے کہا کہ میں بطور ڈیوٹی جج ضمانت کی درخواست سنوں گا۔رانا ثنااللہ کے وکیل اعظم نذیر نے اپنے دلائل میں کہا کہ سی سی ٹی وے کیمرے کی ویڈیو دی گئی جس میں گاڑیوں کو ٹول پلازہ سے لاہور داخل ہونا دکھایا گیا، وزیر نے خود کہا کہ ان کے پاس ویڈیو موجود ہے، انویسٹی گیشن افسر3 ماہ سے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے ہیں۔دورانِ سماعت رانا ثنااللہ نے عدالت میں بیان دیا کہ سڑک سے پکڑا اور عدالت میں آکر پتا چلا کہ مجھ سے ہیروئن برآمد کی ہے، انہوں نے قوم سے جھوٹ بولا اور گمراہ کیا۔ دوران سماعت رانا ثنا اللہ نے روسٹرم پر کھڑے ہوکر اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا وفاقی وزیر نے میری ویڈیو کے بارے میں بیان دیا وہ پیش کیا جائے، عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے، تفتیشی افسر سے میری گفتگو بھی عدالت میں پیش کی جائے، سڑک سے گرفتار کرکے حوالات میں بند کر دیا گیا اور عدالت میں معلوم ہوا ہیروین برآمد کی گئی۔ بعد ازاں عدالت نے لیگی رہنما کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کردی اور ملزم کو دوبارہ 28 اگست کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔بعد ازاں منشیات برآمدگی کیس میں گرفتار رکن پاکستان مسلم لیگ(ن)رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پوری قوم نواز شریف کے ساتھ کھڑی ہے کسی قسم کی کوئی ڈیل نہیں ہوگی۔ پاکستان مسلم لیگ(ن)کے رہنما رانا ثنا اللہ نے عدالت میں پیشی سیقبل جوڈیشل کمپلیکس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا نالائق اعظم کی حکومت اپنی ناکامی چھپانے کے لئے یہ سب کر رہی ہے، پوری قوم نواز شریف کے ساتھ کھڑی ہے، کسی قسم کی کوئی ڈیل نہیں ہو گی۔

موضوعات:

loading...