حکومت اپنے مالی معاملات کو درست سمت پر چلانے میں ناکام، پاکستان کا مالی خسارہ 3.445 کھرب روپے تک پہنچ گیا، آگے کیا ہو گا؟ انتہائی خطرناک پیش گوئی سامنے آ گئی

  بدھ‬‮ 11 ستمبر‬‮ 2019  |  18:22

اسلام آباد (این این آئی) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احمد حسن مغل نے کہا کہ ایف بی آر کے مطابق موجودہ مالی سال کے پہلے دو ماہ میں ملکی ٹیکس ریونیو میں 28فیصد بہتری آئی ہے جو حوصلہ افزا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ موجودہ ٹیکس نظام غیر منصفانہ، غیر متوازن اور مشکل نظام ہے جو کاروباری سرگرمیوں اور معیشت کی ترقی میں اہم رکاوٹ ہے لہذا حکومت انقلابی اصلاحات لا کر ٹیکس نظام کو متوازن، منصفانہ اور آسان بنانے کی کوشش کرےجو اقتصادی ترقی حاصل کرنے کیلئے اشد ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ


ہمارا ملک ٹیکس ریونیو کیلئے زیادہ تر سیلز ٹیکس پر انحصار کر رہا ہے کیونکہ 2017-18میں سیلز ٹیکس کا کل ٹیکس ریونیو میں حصہ 38فیصد سے زائد تھا۔تاہم انہوں نے کہا کہ سیلز ٹیکس پر زیادہ انحصار نے عام آدمی کیلئے مہنگائی میں اضافہ کیا ہے اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی متاثر کیا ہے لہذا حکومت بلواسطہ ٹیکسوں کو کم اور بلا واسطہ ٹیکسوں میں بہتری لانے کی کوشش کرے تا کہ ہر ٹیکس دہندہ اپنی اصل صلاحیت کے مطابق ٹیکس ادا کرے۔ احمد حسن مغل نے کہا کہ اگرچہ سٹینڈرز جنرل سیلز ٹیکس 17فیصد ہے لیکن کسٹم ڈیوٹی، ریگولیٹری ڈیوٹی، لازمی ویلیو ایڈیشن اور ایڈوانس انکم ٹیکس کو شامل کر کے بعض کیسوں میں جی ایس ٹی بڑھ کر مجموعی طور پر 40فیصد تک ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلواسطہ ٹیکسوں کے بوجھ اور بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ٹیکس نظام میں اصلاحات لا کر اس کو کاروبار اور عوام دوستانہ بنائے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پچھلے دس سالوں میں مجموعی ٹیکس ریونیو میں تقریبا 280فیصد بہتری آئی ہے کیونکہ 2007-08میں پاکستان کا کل ٹیکس ریونیو تقریبا 1000ارب روپے تھا جو 2017-18میں بڑھ کر تقریبا 3800ارب روپے سےتجاوز کر گیا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اگر ٹیکس نظام میں انقلابی اصلاحات لائی جائیں تو اس میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے جس سے عوام اور معیشت کیلئے متعدد فوائد پیدا ہوں گے۔اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر رافعت فرید اور نائب صدر افتخار انور سیٹھی نے کہا کہ ورلڈ بینک کی ایک دستاویز کے مطابق اگر پاکستان ٹیکس کمپلائنس کو بڑھا کر 75فیصد تک لے جائے تو اس کا ٹیکس ریونیو بڑھ کا مجموعی قومی پیداوار کا 26فیصد تک جا سکتا ہے۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت ملک کی ٹیکس آمدن اصل صلاحیت سے تقریبا پچاس فیصد کم ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ایک منصفانہ اور آسان ٹیکس نظام تشکیل دے کر اس گیپ کو کم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک نے ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات لا کر ٹیکس ریونیو کو بہتر کیا ہے اور پاکستان کو بھی اسی روش کو اپنانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس نظام کو بہتر کرنے سےایک طرف کاروباری سرگرمیوں کو بہتر فروغ ملے گا جس سے معیشت مضبوط ہو گی اور دوسری طرف عوام کو صحت و تعلیم کی بہتر سہولیات فراہم ہوں گی اور ان کی فلاح و بہبود میں اضافہ ہو گا جس سے عوام کا معیار زندگی بہتر ہو گا لہذا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت ترجیحی بنیادوں پر ٹیکس نظام میں اصلاحات لانے کی کوشش کرے تا کہ ہمارا ملک موجودہ مشکلات سے نکل کر ترقی و خوشحالی کی طرف گامزن ہو سکے۔

loading...