بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت کیوں دی؟ حکومت کا حیرت انگیز موقف سامنے آگیا

  ہفتہ‬‮ 24 اگست‬‮ 2019  |  20:47

راولپنڈی (این این آئی)پاکستانی فضائی حدود کی بندش کو کیبنٹ میں اٹھائیں گے۔یہ بیان وفاقی وزیر برائے ہوا بازی نے ہفتہ پریس کانفرنس کے دوران دیا۔غلام سرور خان کا مزید کہنا تھا کہ فضائی حدود کی پابندی لگادی تو عالمی دنیا کے سامنے یہ جارحیت ہوگی۔ کیبنٹ میں اس حوالے سے مشاورت کی جائے گی پاکستان اور بھارت کے مابین حالات کشیدہ ہیں اور سفارتی تعلقات نچلی سطح تک ہم لے آئے اسی لئے مودی کو فضائی حدود استعمال کرنے دی گئی۔غلام سرور خان نے کہا کہ میڈیا کشمیر کے معاملے مثبت کردار اد کرے۔ پارلیمنٹ کا جوائنٹ سیشن متوقع


ہے،وزیر اعظم پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے کر امریکہ جائیں گے۔26کو مودی کے خطاب کے دوران وہاں احتجاج ہوگا۔27کو وزیر اعظم عمران خان مودی کی تقریر کا جواب دیں گے۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں اتفاق ہوتا تو دنیا میں مسلمانوں کا خون نہ بہتا۔اس وقت بال ہندوستان کے کوٹ میں ہے اور سب مودی کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔بھارت یہ کہہ کر جواز ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہے کہ ہم آزاد کشمیر سے مداخلت کر رہے ہیں۔قومی ایشو پر میڈیا کو بھی حکومت کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔کوئی چیز بھی پہلے سے طے شدہ نہیں ہے۔یہ قومی ایشو ہے اس پر اپوزیشن بھی ہمارے ساتھ ہے۔پارلیمنٹ کا جوائنٹ سیشن متوقع ہے جس ہر اپوزیشن کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔وزیر اعظم اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر سلامتی کونسل میں جائینگے۔انکا یہ خطاب بھی آپ دیکھیں گے اس سے پہلے ایسا خطاب نہیں دیکھا گیا ہو گا۔مودی کو عمران خان خطاب میں ایسا جواب دیں گے کہ مودی بھی یاد رکھے گا۔پاکستان میں جمہوریت ہے اہم منتخب حکومت موجود ہے۔پوری قوم اپوزیشن تمام ادارے ایک پیج پر ہے یہ پاکستان کی طاقت ہے۔اپوزیشن کسی ایک شخص کا نام نہیں خواہ وہ نواز ہو یا شہباز ہو۔جس نے گاجریں کھائیں ان کے پیٹ میں تو درد ہونا ہی ہے۔وفاقی وزیر برائے ایوی ایشن غلام سرور خان نے کہا کہبھارت نے آرٹیکل 370 کو منسوخ مگر دنیا میں دہرا معیار پایا جاتاہے،1948میں بھارت سلامتی کونسل میں گیااور وہاں قرارداد منظور ہوئی کے استصواب رائے دیا جائے۔کشمیر واضح اکثریتی مسلمان علاقہ جہاں ہندوستان نے قبضہ کیااقوام متحدہ سالوں گزرنے کے باجود اپنی قرارداد پر عمل نہ کرواسکا۔مشرقی تیمور کا مسئلہ 1999میں سامنے آیا اور 2002میں حل ہوگی۔انڈونیشیا نے اس تقسیم کو تقسیم کیا،جنوبی سوڈان کی عیسائی ریاست کو آزاد کردیا گیا،کشمیر کا مسئلہ آج تک حل طلب ہے،کشمیر کے بغیر پاکستان مکمل نہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے مسئلے پر جنگیں ہوئیں۔انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کی حکومت نے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی طور پر اجاگر کیا۔مسئلہ کشمیر کو عالمی عدالت انصاف میں لیجایا جائے۔کشمیر میں ہندوستان کی 10لاکھ افواج ہیں۔وفاقی وزیر نے واضح الفاظ میں بھارتی ظالمانہ اقدامات کی مذمت کی۔انکا کہنا تھا کہ کشمیر کے معاملے پر پوری قوم متحد ہے۔ایک ہفتے میں ٹرمپ نے تین بار وزیر اعظم سے بات کی۔پہلی بار عالمی طاقتوں نے اس مسئلے پر توجہ دی۔آج بین الاقوامی قوتیں پاکستان کے ساتھ کھڑی ہیں۔کشمیر میں 20دنوں سے کرفیو نافذ نظام زندگی معطل ہے۔انہوں نے کہا کہ کرفیو ختم ہوا تو کشمیریوں کا شدید ردعمل آئی گا۔

موضوعات:

loading...