جمعرات‬‮ ، 22 جنوری‬‮ 2026 

وفاقی وزیر خسرو بختیار احتساب کے دائرے میں آ گئے ڈھیروں کمپنیاں اور بڑی جائیدادیں۔۔ ْنیب نے وزیر منصوبہ بندی کیخلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے حوالے سے انکوائری مکمل کر لی

datetime 26  جولائی  2019 |

ملتان( آن لائن )حکومتی وزرا بھی نیب کے ریڈار پر آ گئے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ نیب ملتان نے وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار کے خلاف انکوائری مکمل کر لی گئی ہے جو کہ ہیڈ آفس بھجوا دی گئی ہے۔ خسرو بختیار کے خلاف انکوائری آمدن سے زائد اثاثوں کے حوالے سے کی گئیں۔وفاقی وزیر کے اثاثوں میں 2004 کے بعد سے اچانک اضافہ ہوا۔2004 میں خسرو بختیار کے

پاس 5 ہزار 702 کنال زرعی اراضی تھی۔ایم این اے بننے کے بعد خسرو بختیار کے خاندان کے نام 4 شوگر ملز بنائی گئیں۔5پاور جنریشن سیکٹر، 4 کیپیٹل انوسمنٹ کمپنیز بنائی گئیں۔یہ کمپنیاں 2006 سے 2016 کے درمیان رجسٹرڈ ہوئیں۔ان کمپنیوں میں بھاری سرمایہ بھی لگایا گیا۔نیب ملتان کو ان پراپرٹیز میں خسرو بختیار کے بے نامی حصہ دار ہونے کا شبہ ہوا ہے۔رواں ماہ ہی ایک میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ نیب نے حکومتی وزیروں کے خلاف بھی تحقیقات شروع کر دیں۔ نیب نے احتساب سب کے لیے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے حکومتی وزرا کے خلاف بھی تحقیاقات کا آغاز کر دیا ہے۔چئرمین نیب نے حکومتی وزرا کی 14کروڑ کی ٹی ٹی کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ چئرمین نیب نے کہا ہے کہ حکومتی وزرا کے خلاف بھی تحقیقات کی جائیں اور کرپشن یا غبن میں ملوث وزرا کو کٹہرے میں لایا جائے۔چئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے خود حکومتی وزرا کی 14کروڑ کی ٹی ٹی کا نوٹس لیا ہے۔اپوزیشن ابھی تک یہی شور کر رہی تھی کہ کرپشن کا نام لے کر سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے اور صرف مخالفین کے خلاف کارروائیاں کی جارہی ہیں لیکن اب نیب نے ثابت کر دیا ہے کہ نئے پاکستان میں سب کا احتساب ہو گا۔ چاہے کوئی حکومتی وزیر ہی کیوں نہ ہو سب کا احتساب ہو گا۔ تاحال ان وزرا کے نام سامنے نہیں آسکے جن کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا گیا ہے لیکن امکان ہے کہ جلد نام سامنے آجائیں گے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…