پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں رواں برس مون سون بارشوں کے تمام ریکارڈز ٹوٹ جانے کا امکان،بارشیں کب سے شروع ہورہی ہیں؟محکمہ موسمیات کی خوفناک پیش گوئی

datetime 25  جون‬‮  2019 |

لاہور( آن لائن)پاکستان میں رواں برس مون سون بارشوں کے تمام ریکارڈز ٹوٹ جانے کا امکان، اگلے ماہ 20 جولائی سے 20 اگست تک لاہور سمیت پنجاب بھر میں شدید بارشوں اور بارشوں کے باعث سیلاب کی پیش گوئی کر دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے بیشتر علاقوں خاص کر صوبہ پنجاب میں پری مون سون بارشوں کے سلسلے کا آغاز ہو چکا ہے۔پنجاب کے دارالحکومت لاہور اور صوبے کے بیشتر شہروں میں 3 روز کے دوران موسلادھار بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

پری مون بارشوں کے سلسلے کے آغاز کے باعث جون کے ماہ میں گرمی کی شدت میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ دوسری جانب ماہرین موسمیات نے پیشن گوئی کی ہے کہ رواں برس پاکستان میں مون سون بارشوں کے تمام ریکارڈ ٹوٹ سکتے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے 20 جولائی سے 20 اگست تک کے عرصے کے دوران لاہور سمیت پنجاب بھر میں شدید بارشوں اور ان بارشوں کے باعث سیلاب کی پیش گوئی کر دی ہے۔ماہرین موسمیات کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاہور اور پنجاب کے دیگر علاقوں میں پری مون سون بارشوں کے سلسلے کا آغاز ہو چکا ہے۔ پری مون سون بارشوں کا یہ سلسلہ 20 جولائی تک جاری رہے گا اور صوبائی داراحکومت سمیت صوبے کے دیگر شہروں میں ہلکی بارشیں ہوں گی۔ ان بارشوں کے باعث گرمی کی شدت میں کمی واقع ہو گی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 20 جولائی کے بعد سے بارشوں کے سلسلے میں شدت آنے کا امکان ہے۔20 جولائی سے 20 اگست تک بارشوں کی شدت میں اضافہ ہو گا۔ 20 جولائی سے 20 اگست تک بارشوں کے باعث پنجاب کے مختلف علاقوں سمیت لاہور کے شہری علاقہ میں شدید سیلاب آئے گا۔ رپورٹ میں لاہور کے متعلقہ اداروں کو تلقین کی گئی ہے کہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہنگامی طور پر اقدامات شروع کر دیے جائیں۔ رپورٹ میں لاہور کے شہری علاقہ میں

مکانوں سمیت اندرون شہر میں واقعہ خستہ مکانوں کو انتہائی خطر ناک قرار دیتے ہوئے ان مکانوں میں مقیم رہائشیوں کو فوری طور پر نکالنے کی تلقین کی گئی ہے۔اس رپورٹ اور حالیہ بارشوں کے بعد وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدارنے صوبائی انتظامیہ اور امدادی سرگرمیوں سے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ وزیراعلی نے ہدایت کی کہ بارش سے پیدا ہونے والی صورتحال پر کڑی نظر رکھی جائے، نکاسی آب کیلئے متحرک انداز میں کام کیا جائے اور نشیبی علاقوں سے

پانی نکالنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اور متعلقہ ادارے بہترین کوآرڈینیشن کے تحت فرائض سرانجام دیں۔ نکاسی آب کے کاموں میں غفلت قطعا برداشت نہیں کی جائے گی۔افسران دفاتر میں بیٹھنے کی بجائے خود فیلڈ میں نکلیں اور نکاسی آب کے کام کی نگرانی کریں۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک کی روانی میں خلل نہیں پڑنا چاہیئے اور ٹریفک حکام اس ضمن میں خود فیلڈ میں موجود رہیں اور ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کیلئے موثر اقدامات اٹھائیں۔وزیراعلی نے کہا کہ شہریوں کو کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہیں ہونا چاہیئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…