ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

اللہ پاک معافی دے، اسے کہتے ہیں خدا کی پکڑ، لائیو پروگرام کے دوران مشہور زمانہ پاکستانی کمانڈو پرویز مشرف رو پڑے، وجہ کیا بنی؟

datetime 5  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

لندن (این این آئی) سابق صدر پرویز مشرف اپنی بیماری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔ ایک انٹرویوکے دور ان انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس صاحب کو بتانا چاہتا ہوں یہ نہ سمجھیں کہ میں پاکستان آنے سے بھاگ رہا ہوں، میں بھاگ کر کہاں جاؤں گا، میں انگریز یا اماراتی تو نہیں بن سکتا، میں پاکستانی ہوں اور پاکستانی رہوں گا۔

سابق صدر نے اپنی بیماری پر تفصیلی گفتگو کی اور بتایا کہ کوئی ڈاکٹر پتا نہیں لگا پا رہا تھا کہ اصل مسئلہ کیا ہے کیونکہ وہ بیماری ایک ملین میں سے ایک بندے کو ہوتی ہے ۔ ایک ڈاکٹر نے اس بیماری کا پتا لگایا اور کہا کہ وہ اس کا علاج کریں گے۔میرا بہت اچھے طریقے سے علاج ہورہا ہے دنیا کے بہترین کارڈیالوجسٹ اور آنکیالوجسٹ دیکھ بھال کر رہے ہیں۔پرویز مشرف نے عدلیہ سے درخواست کی کہ انہیں فیئر ٹرائل کا موقع دیا جائے۔ عدلیہ سے کہوں گا کہ مجھے فیئر ٹرائل کا موقع دے میں پاکستان آنے سے گھبراتا نہیں ہوں پاکستان میرا ملک ہے، میرے دوست اور رشتہ دار پاکستان میں ہیں ۔انہوں نے چیف جسٹس کو مخاطب کرکے کہا کہ چیف جسٹس صاحب کو بتانا چاہتا ہوں یہ نہ سمجھیں کہ میں پاکستان آنے سے بھاگ رہا ہوں۔ میں بھاگ کر کہاں جاؤں گا، میں انگریز یا اماراتی تو نہیں بن سکتا، میں پاکستانی ہوں اور پاکستانی رہوں گا۔ مجھے نہیں پتا میرے اوپر کون کون سے کیسز ہیں ، ہر روز کوئی نہ کوئی اٹھ کر الٹی سیدھی بات کردیتا ہے۔ٹی وی انٹرویو کے دوران پرویز مشرف اپنی بیماری اور خود پر قائم مقدمات کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ بھی ہوئے۔  سابق صدر پرویز مشرف اپنی بیماری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔ ایک انٹرویوکے دور ان انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس صاحب کو بتانا چاہتا ہوں یہ نہ سمجھیں کہ میں پاکستان آنے سے بھاگ رہا ہوں، میں بھاگ کر کہاں جاؤں گا، میں انگریز یا اماراتی تو نہیں بن سکتا، میں پاکستانی ہوں اور پاکستانی رہوں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…