جمعہ‬‮ ، 29 مئی‬‮‬‮ 2026 

اللہ پاک معافی دے، اسے کہتے ہیں خدا کی پکڑ، لائیو پروگرام کے دوران مشہور زمانہ پاکستانی کمانڈو پرویز مشرف رو پڑے، وجہ کیا بنی؟

datetime 5  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

لندن (این این آئی) سابق صدر پرویز مشرف اپنی بیماری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔ ایک انٹرویوکے دور ان انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس صاحب کو بتانا چاہتا ہوں یہ نہ سمجھیں کہ میں پاکستان آنے سے بھاگ رہا ہوں، میں بھاگ کر کہاں جاؤں گا، میں انگریز یا اماراتی تو نہیں بن سکتا، میں پاکستانی ہوں اور پاکستانی رہوں گا۔

سابق صدر نے اپنی بیماری پر تفصیلی گفتگو کی اور بتایا کہ کوئی ڈاکٹر پتا نہیں لگا پا رہا تھا کہ اصل مسئلہ کیا ہے کیونکہ وہ بیماری ایک ملین میں سے ایک بندے کو ہوتی ہے ۔ ایک ڈاکٹر نے اس بیماری کا پتا لگایا اور کہا کہ وہ اس کا علاج کریں گے۔میرا بہت اچھے طریقے سے علاج ہورہا ہے دنیا کے بہترین کارڈیالوجسٹ اور آنکیالوجسٹ دیکھ بھال کر رہے ہیں۔پرویز مشرف نے عدلیہ سے درخواست کی کہ انہیں فیئر ٹرائل کا موقع دیا جائے۔ عدلیہ سے کہوں گا کہ مجھے فیئر ٹرائل کا موقع دے میں پاکستان آنے سے گھبراتا نہیں ہوں پاکستان میرا ملک ہے، میرے دوست اور رشتہ دار پاکستان میں ہیں ۔انہوں نے چیف جسٹس کو مخاطب کرکے کہا کہ چیف جسٹس صاحب کو بتانا چاہتا ہوں یہ نہ سمجھیں کہ میں پاکستان آنے سے بھاگ رہا ہوں۔ میں بھاگ کر کہاں جاؤں گا، میں انگریز یا اماراتی تو نہیں بن سکتا، میں پاکستانی ہوں اور پاکستانی رہوں گا۔ مجھے نہیں پتا میرے اوپر کون کون سے کیسز ہیں ، ہر روز کوئی نہ کوئی اٹھ کر الٹی سیدھی بات کردیتا ہے۔ٹی وی انٹرویو کے دوران پرویز مشرف اپنی بیماری اور خود پر قائم مقدمات کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ بھی ہوئے۔  سابق صدر پرویز مشرف اپنی بیماری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔ ایک انٹرویوکے دور ان انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس صاحب کو بتانا چاہتا ہوں یہ نہ سمجھیں کہ میں پاکستان آنے سے بھاگ رہا ہوں، میں بھاگ کر کہاں جاؤں گا، میں انگریز یا اماراتی تو نہیں بن سکتا، میں پاکستانی ہوں اور پاکستانی رہوں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…