اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اگلے دو ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا، شرح سود میں اضافہ کردیاگیا، اطلاق یکم اکتوبر سے ہو گا

  ہفتہ‬‮ 29 ستمبر‬‮ 2018  |  22:27

کراچی(این این آئی)اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اگلے دو ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا ہے، نئی پالیسی کے مطابق شرح سود کو ایک فیصد اضافے کے بعد 8.50 فیصد کر دیا گیا ہے۔اسٹیٹ بینک کی طرف سے جاری اعلامیہ کے مطابق نئی شرح سود کا اطلاق یکم اکتوبر سے ہو گا۔اسٹیٹ بینک کے اعلامیئے کے مطابق جولائی 2018 میں زری پالیسی کمیٹی کے گذشتہ اجلاس کے بعد سے پاکستان کی سیاسی صورت حال میں قابل ذکر تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیںجن کے کاروبار اور صارفین کے اعتماد پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں اور جس کی عکاسی


مختلف سروے سے ہوتی ہے۔ ایک حکومت سے دوسری حکومت کو اقتدار کی ہموار منتقلی سے اب تک پائی جانے والی سیاسی بے یقینی کی صورت حال ختم ہو چکی ہے، تاہم بڑھتی ہوئی مہنگائی ، بڑے جڑواں خساروں کی بنا پر معاشی صورت حال کے بارے میں خدشات برقرار ہیں کیونکہ امکان ہے کہ اس سے بلند حقیقی معاشی نمو کی پائیداری متاثر ہو گی۔مہنگائی (inflation) میں اضافہ ہو رہا ہے، خصوصا مارچ 2018 سے ۔ اب تک مالی سال 19 کے ابتدائی دو مہینوں میں عمومی صارف اشاریہ قیمت مہنگائی (CPI) 5.8 فیصد کی اوسط سطح پر رہی ہے جبکہ مالی سال 18 کی اسی مدت میں یہ 3.2 فیصد اور پورے مالی سال 18 میں اس کی اوسط 3.9 فیصد تھی۔ حتی کہ یہ اضافہ معیشت میں مہنگائی کے مخفی دباو کی عکاسی کرنے والے پیمانے قوزی مہنگائی میں اور بھی زیادہ نمایاں ہے۔ مالی سال 19 کے لیے اسٹیٹ بینک کی مہنگائی کی پیش گوئیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اوسط عمومی مہنگائی 6.5 تا 7.5 فیصد کی بالائی حد کے قریب رہنے کی توقع ہے۔ اس جائزے میں ان عوامل کو مدنظر رکھا گیا ہے: (i) تیل کی عالمی قیمتوں میں توقع سے زیادہ بلند اضافہ (ii) ملکی گیس کی قیمتوں میں اضافہ (iii) درآمدات پر ریگولیٹری ڈیوٹیوں میں مزید اضافہ اور (iv) شرح مبادلہ میں پچھلی کمی کے دورِثانی اثرات کا تسلسل۔مالی سال 18 میں 5.8 فیصد کی صحت مند نمو کے بعد امکان ہے کہ مالی سال 19 میں معاشی سرگرمی کچھ سست رہے گی کیونکہ عمومی معاشی پالیسی میں توجہ استحکام پر مرکوز کی جار ہی ہے۔خصوصا جنوری 2018 سے اسٹیٹ بینک کے پالیسی ریٹ میں 175 بی پی ایس اضافے کی ترسیل کے اثرات ابھی مرتب ہو رہے ہیں۔ حکومت بھی اب بڑھتے ہوئے مالیاتی خسارے میں کمی کے لیے مالیاتی یکجائی کے پروگرام پر عمل پیرا ہے اور بیرونی شعبے پر بڑھتے ہوئے دباو کو کم کرنے کے لیے مزید ضوابطی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ نتیجتا، ان اقدامات سے مالی سال 19 کے آئندہ مہینوں میں ملکی طلب میں کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔حالیہ زری اور مالیاتی اقدامات پر عملدرآمد سے امکان ہے کہ بڑے پیمانے کی اشیا سازی (LSM) کا شعبہ متاثر ہو گا۔مزید برآں، تازہ ترین معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ کپاس کی پیداوار مالی سال 19 میں اپنے 14.4 ملین گانٹھوں کے ہدف سے کم رہنے کی توقع ہے، جس کے زرعی شعبے کی نمو پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ مالی سال 19 میں منسلک خدمات کا شعبہ توقع ہے کہ اپنے ہدف کو حاصل نہیں کر سکے گا۔ برآمداتی پیداوار سے اور کم ہوتے ہوئے ذخائر کی وجہ سے کھاد کی بلند پیداوار اورتوانائی کی دستیابی میں بہتری کے مثبت اثرات متوقع ہیں۔ طلب و رسد دونوں کی تازہ ترین معلومات کو شامل کرنے کے بعد اسٹیٹ بینک کو توقع ہے کہ مالی سال 19 میں حقیقی جی ڈی پی کی نمو تقریبا 5 فیصد رہے گی۔جاری حسابات کا خسارہ بدستور چیلنج بنا ہوا ہے۔ مالی سال 19 کے ابتدائی دو مہینوں میں کارکنوں کی ترسیلاتِ زر اور برآمدات میں حوصلہ افز ا نمو کے باوجود تیل کی درآمدات میں قابل ذکر اضافے کی بنا پر جاری کھاتے کا خسارہ 2.7 ارب ڈالر ہے، جو گذشتہ برس کم ہوتی ہوئی نان آئل درآمدات کی وجہ سے اسی مدت میں 2.5 ارب ڈالر تھا۔ ان پیش رفتوں کی وجہ سے اسٹیٹ بینک کے خالص سیال ذخائر 19 ستمبر 2018 کو کم ہو کر 9.0 ارب ڈالر پر آگئے جو م س 18 کے اختتام پر 9.8 ارب ڈالر تھے۔یکم جولائی تا 14 ستمبر مالی سال 19 میں زر وسیع میں موسمی کمی دیکھی گئی جبکہ گذشتہ برس کی اسی مدت میں 0.9 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ اسی مدت میں نجی شعبے کے قرضے کی کارکردگی نسبتا بہتر رہی۔نجی شعبے کے قرضوں میں نمو کی اہم وجوہات یہ ہیں: (i) توانائی کی دستیابی میں بہتری (ii) جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے ساتھ قدرے سازگار برآمدی طلب (iii) گذشتہ تین برسوں مں استعداد بڑھنے کی بنا پر جاری سرمائے کی بلند ضروریات۔ اسی لیے نجی شعبے کے قرضوں کی نمو میں اضافہ جاری رہنے کی توقع ہے لیکن مالی سال 18 کے مقابلے میں سست رفتاری سے۔ اسی طرح مالی سال 19 میں زری نمو 10.5 تا 11.5 فیصد رہنے کی توقع ہے۔اس تناظر میں زری پالیسی کمیٹی کا مشاہدہ ہے کہ: ، (i) اگرچہ غیر تیل درآمدات پر سکڑاو کے اقدامات کا اثر ہو رہا ہے، تاہم تیل کے نرخوں میں اضافہ اس بہتری کو زائل کر رہا ہے اور اس کے نتیجے میں جاری حسابات کا خسارہ بلند رہے گا (ii) مہنگائی میں ابھرتے ہوئے رجحانات کا مطلب یہ ہے کہ حقیقی شرحِ سود مزید گری ہے،(iii) ظاہر ہونے والی عالمی تبدیلیاں، خواہ وہ تیل کے نرخوں کے دھچکے ہوں،تحفظ پسند تجارتی پالیسیاں اور/یا ابھرتی ہوئی منڈیوں کو رقوم کی فراہمی میں کمی ، سب پاکستان میں اقتصادی انتظام کے لیے سخت چیلنج بنیں گی۔چنانچہ مذکورہ بالا حالیہ اور ارتقا پذیر معاشی صورت حال کی روشنی میں زری پالیسی کمیٹی کی رائے ہے کہ اقتصادی استحکام یقینی بنانے کے لیے یکجائی (consolidation) کی مزید کوششیں درکار ہیں، اور لہذا کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ یکم اکتوبر 2018 سے اسٹیٹ بینک کے ٹارگٹ پالیسی ریٹ میں 100 بی پی ایس اضافہ کر کے اسے 8.5 فیصد کر دیا جائے۔واضح رہے کہ رواں برس جولائی میں بھی اسٹیٹ بینک نے دو ماہ کے لیے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے 6.5 فیصد سے بڑھا کر 7.5 فیصد کر دیا تھا۔رواں سال مارچ میں شرح سود کو 6 فیصد پر قائم رکھا گیا تھا لیکن مئی میں شرح سود میں 0.5 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔مجموعی طور پر موجودہ سال میں اب تک شرح سود میں 2.5 فیصد کا اضافہ کیا جا چکا ہے۔مرکزی بینک ایک سال میں چھ بار مانیٹری پالیسی وضع کرتا ہے اور ہر پالیسی دو مہینوں کے لیے موثر ہوتی ہے۔ماہرین کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے شرح سود میں رد و بدل کی گئی ہے۔

موضوعات:

loading...