اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاکستان میں شکار کے سیزن کے دوران عرب ممالک کے حکمرانوں کی آمد اور ان کے لیے مخصوص علاقوں کی الاٹمنٹ ایک پرانا معمول ہے۔
اس پس منظر میں سابق آئی جی پولیس ذوالفقار احمد چیمہ نے اپنی نئی کتاب ’’جہدِ مسلسل‘‘ میں مقامی زمینداروں اور بعض سرکاری اہلکاروں کے دلچسپ اور چونکا دینے والے رویّوں کا ذکر کیا ہے، جو انہیں ایک شاہی محل کے منیجر نے خود سنائے۔ذوالفقار احمد چیمہ لکھتے ہیں کہ رحیم یار خان کی ایک نمایاں پہچان یہ بھی رہی ہے کہ متحدہ عرب امارات کے بانی حکمران شیخ زید بن سلطان النہیان ہر سال سردیوں میں تقریباً ایک ماہ کے لیے یہاں قیام کیا کرتے تھے۔ وہ صحرائی علاقوں میں شکار سے لطف اندوز ہوتے اور خوشگوار موسم سے بھی بھرپور فائدہ اٹھاتے تھے۔ ان کی اس دل چسپی نے علاقے کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں شہر میں جدید اسپتال اور ہوائی اڈے جیسے اہم منصوبے مکمل ہوئے۔مصنف کے مطابق ایک موقع پر وہ شیخ زید کی آمد کے سلسلے میں سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے شہر سے لگ بھگ 25 کلومیٹر دور واقع شاہی محل پہنچے، جہاں محل کے منتظم نے انہیں تمام کمروں کا دورہ کروایا۔ دورانِ گفتگو منیجر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ حکمران کی آمد پورے ضلع کے لیے کسی تہوار سے کم نہیں ہوتی۔منیجر نے مزید انکشاف کیا کہ شاہی خاندان کی روایت رہی ہے کہ وہ سفر کے دوران راستے میں کھڑے گداگروں کو نقد رقم سے بھری تھیلیاں اور قیمتی گھڑیاں عطا کرتے تھے۔
اسی لالچ میں مقامی زمیندار بھیس بدل کر سڑکوں کے کنارے کھڑے ہو جاتے تھے تاکہ انعام حاصل کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ شاہی مہمان اسپتالوں کا دورہ بھی کرتے اور مریضوں کو بھی مالی امداد دیتے تھے، جس کا فائدہ اٹھانے کے لیے بعض مقامی افسران دباؤ ڈال کر مریضوں کے بستروں پر لیٹ جاتے اور قیمتی تحائف سمیٹ کر واپس لوٹ آتے تھے۔یہ واقعات سابق آئی جی نے اپنی کتاب میں بطور مثال بیان کیے ہیں، جو اس دور میں مقامی انتظامیہ اور بااثر طبقے کے غیر سنجیدہ اور موقع پرستانہ رویّوں کی عکاسی کرتے ہیں۔















































