جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹوں کے اجرا بارے گورنر اسٹیٹ بینک کا اہم اعلان

datetime 5  فروری‬‮  2026 |

اسلام آباد (این این آئی)گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک نے نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹس کے اجرا کی تجویز کابینہ کو بھجوا دی ہے

جس میں جدید سیکیورٹی فیچرز شامل کیے گئے ہیں،اسٹیٹ بینک کے بورڈ نے تمام نئے کرنسی نوٹس کے ڈیزائن فائنل کر کے وفاقی حکومت کو منظوری کے لیے ارسال کر دیے ہیں،اب نئے کرنسی نوٹس کے اجرا کی حتمی منظوری وفاقی حکومت نے دینا ہے۔بدھ کو قائمہ کمیٹی کو انہوں نے بتایا کہ تمام مالیت کے کرنسی نوٹس کے ڈیزائن تبدیل کیے جا رہے ہیں اور نئے نوٹس کے ڈیزائن اور اجرا میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کروائی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پلاسٹک کرنسی نوٹس کو بھی تجرباتی بنیادوں پر متعارف کروانے پر غور کیا جا رہا ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ پانچ ہزار روپے کے کرنسی نوٹ کو ختم کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔اس موقع پر چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ پانچ ہزار روپے کے نوٹ کے معاملے کو چھیڑنے سے معیشت میں اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے، جس پر چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ جب گورنر اسٹیٹ بینک واضح کر چکے ہیں کہ پانچ ہزار کا نوٹ ختم نہیں ہو رہا تو اس معاملے پر بات بھی ختم ہو گئی۔اجلاس میں بینکوں کی جانب سے اے ٹی ایم کے ذریعے رقوم نکلوانے اور جمع کروانے پر ایس ایم ایس چارجز کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ صارفین سے ایس ایم ایس الرٹس پر چارجز وصول کیے جا رہے ہیں، جس پر گورنر اسٹیٹ بینک نے وضاحت کی کہ جو ایس ایم ایس لازمی نوعیت کے ہوتے ہیں ان پر کوئی چارجز وصول نہیں کیے جاتے، جبکہ اضافی سروسز سے متعلق پیغامات پر چارجز صارفین سے لیے جاتے ہیں۔گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ یہ چارجز براہِ راست ٹیلی کام کمپنیوں کو ادا کیے جاتے ہیں اور اسٹیٹ بینک اس مد میں کوئی رقم وصول نہیں کرتا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ دو برسوں میں ٹیلی کام کمپنیوں کے ایس ایم ایس چارجز 0.04 روپے سے بڑھ کر چار روپے سے زائد ہو چکے ہیں۔ اس پر چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ اب انہیں مزید تفتیش کے لیے ٹیلی کام کمپنیوں کو طلب کرنا پڑے گا تاکہ واضح ہو سکے کہ کون کتنا چارج وصول کر رہا ہے۔چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے فروغ سے صارفین کو نقصان نہیں ہونا چاہیے۔اجلاس میں ایک رکن نے بینک اکاؤنٹ کھولنے کے دوران کثیر تعداد میں فارمز پر دستخط لینے کا معاملہ بھی اٹھایا۔

مزید برآں کمیٹی کے ایک رکن نے چین، روس اور دیگر ممالک کے ساتھ ڈالر کے علاوہ دیگر کرنسیوں میں تجارت سے متعلق سوال کیا، جس پر گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ چین کے ساتھ چینی کرنسی میں تجارت پہلے سے ہو رہی ہے، تاہم یو اے ای کے ساتھ کرنسی رول اوور سے متعلق سوال کو انہوں نے فارن آفس کا معاملہ قرار دیتے ہوئے جواب دینے سے گریز کیا۔



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…