پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

لاپتہ افرادکو اغوا ء کرنے کے بعد ان کے ساتھ کیا سلوک کیاگیا؟اسلام آباد ہائی کورٹ میں افسوسناک انکشافات،جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے بڑا حکم جاری کردیا

datetime 20  جولائی  2018 |

اسلام آباد (این این آئی) اسلام آباد ہائی کورٹ نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر اغواء کنندگان کی تحویل سے فرار ہونے والے تمام افراد کو آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم دیاہے ۔ جمعہ کو عدالت عالیہ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر مشتمل سنگل بینچ نے سماعت کی ۔ اس موقع پر ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد پولیس نجیب الرحمن بگوی عدالت میں پیش ہوئے

اورموقف اختیار کیا کہ اکتیس مارچ 2018 کو عثمان سلیم کو اغواء کیا گیا، عثمان سلیم دو کروڑ تاوان دے کر بازیاب ہوئے، اغواء کاروں نے مغوی کے گھر پر قبضہ بھی کیا ہوا ہے ، اغواء کاروں نے جائیداد کے کاغذات گاڑی بھی چھینی، بازیاب ہونے کے بعد ایف آئی آر درج کرانے پر انہیں دوبارہ اغواء کر لیا گیا، عثمان سلیم اور اس کا بھائی دونوں اس وقت اغواء کاروں کے قبضے میں ہیں۔ فاضل جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ کسی جرائم پیشہ شخص کو بھی غیر قانونی طور پر اغواکرنا یا اٹھانا جرم ہے، پشاور میں اغواء کاروں کے منظم گروہ کام کر رہے ہیں، پتہ چلایا جائے کہ پشاور کا شکیل آدم کون ہے اور اس کو کس کی پشت پناہی حاصل ہے، عدالت نے اغواء کنندگان کی تحویل سے فرار ہونے والے تمام افراد کو اگلی سماعت پر پیش کرنے کا حکم د یتے ہوئے مزید سماعت پیر تک ملتوی کردی۔  اسلام آباد ہائی کورٹ نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر اغواء کنندگان کی تحویل سے فرار ہونے والے تمام افراد کو آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم دیاہے ۔ جمعہ کو عدالت عالیہ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر مشتمل سنگل بینچ نے سماعت کی ۔ اس موقع پر ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد پولیس نجیب الرحمن بگوی عدالت میں پیش ہوئے اورموقف اختیار کیا کہ اکتیس مارچ 2018 کو عثمان سلیم کو اغواء کیا گیا، عثمان سلیم دو کروڑ تاوان دے کر بازیاب ہوئے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…