ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

لاپتہ افرادکو اغوا ء کرنے کے بعد ان کے ساتھ کیا سلوک کیاگیا؟اسلام آباد ہائی کورٹ میں افسوسناک انکشافات،جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے بڑا حکم جاری کردیا

datetime 20  جولائی  2018 |

اسلام آباد (این این آئی) اسلام آباد ہائی کورٹ نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر اغواء کنندگان کی تحویل سے فرار ہونے والے تمام افراد کو آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم دیاہے ۔ جمعہ کو عدالت عالیہ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر مشتمل سنگل بینچ نے سماعت کی ۔ اس موقع پر ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد پولیس نجیب الرحمن بگوی عدالت میں پیش ہوئے

اورموقف اختیار کیا کہ اکتیس مارچ 2018 کو عثمان سلیم کو اغواء کیا گیا، عثمان سلیم دو کروڑ تاوان دے کر بازیاب ہوئے، اغواء کاروں نے مغوی کے گھر پر قبضہ بھی کیا ہوا ہے ، اغواء کاروں نے جائیداد کے کاغذات گاڑی بھی چھینی، بازیاب ہونے کے بعد ایف آئی آر درج کرانے پر انہیں دوبارہ اغواء کر لیا گیا، عثمان سلیم اور اس کا بھائی دونوں اس وقت اغواء کاروں کے قبضے میں ہیں۔ فاضل جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ کسی جرائم پیشہ شخص کو بھی غیر قانونی طور پر اغواکرنا یا اٹھانا جرم ہے، پشاور میں اغواء کاروں کے منظم گروہ کام کر رہے ہیں، پتہ چلایا جائے کہ پشاور کا شکیل آدم کون ہے اور اس کو کس کی پشت پناہی حاصل ہے، عدالت نے اغواء کنندگان کی تحویل سے فرار ہونے والے تمام افراد کو اگلی سماعت پر پیش کرنے کا حکم د یتے ہوئے مزید سماعت پیر تک ملتوی کردی۔  اسلام آباد ہائی کورٹ نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر اغواء کنندگان کی تحویل سے فرار ہونے والے تمام افراد کو آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم دیاہے ۔ جمعہ کو عدالت عالیہ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر مشتمل سنگل بینچ نے سماعت کی ۔ اس موقع پر ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد پولیس نجیب الرحمن بگوی عدالت میں پیش ہوئے اورموقف اختیار کیا کہ اکتیس مارچ 2018 کو عثمان سلیم کو اغواء کیا گیا، عثمان سلیم دو کروڑ تاوان دے کر بازیاب ہوئے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…