پیر‬‮ ، 23 فروری‬‮ 2026 

لاپتہ افرادکو اغوا ء کرنے کے بعد ان کے ساتھ کیا سلوک کیاگیا؟اسلام آباد ہائی کورٹ میں افسوسناک انکشافات،جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے بڑا حکم جاری کردیا

datetime 20  جولائی  2018 |

اسلام آباد (این این آئی) اسلام آباد ہائی کورٹ نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر اغواء کنندگان کی تحویل سے فرار ہونے والے تمام افراد کو آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم دیاہے ۔ جمعہ کو عدالت عالیہ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر مشتمل سنگل بینچ نے سماعت کی ۔ اس موقع پر ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد پولیس نجیب الرحمن بگوی عدالت میں پیش ہوئے

اورموقف اختیار کیا کہ اکتیس مارچ 2018 کو عثمان سلیم کو اغواء کیا گیا، عثمان سلیم دو کروڑ تاوان دے کر بازیاب ہوئے، اغواء کاروں نے مغوی کے گھر پر قبضہ بھی کیا ہوا ہے ، اغواء کاروں نے جائیداد کے کاغذات گاڑی بھی چھینی، بازیاب ہونے کے بعد ایف آئی آر درج کرانے پر انہیں دوبارہ اغواء کر لیا گیا، عثمان سلیم اور اس کا بھائی دونوں اس وقت اغواء کاروں کے قبضے میں ہیں۔ فاضل جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ کسی جرائم پیشہ شخص کو بھی غیر قانونی طور پر اغواکرنا یا اٹھانا جرم ہے، پشاور میں اغواء کاروں کے منظم گروہ کام کر رہے ہیں، پتہ چلایا جائے کہ پشاور کا شکیل آدم کون ہے اور اس کو کس کی پشت پناہی حاصل ہے، عدالت نے اغواء کنندگان کی تحویل سے فرار ہونے والے تمام افراد کو اگلی سماعت پر پیش کرنے کا حکم د یتے ہوئے مزید سماعت پیر تک ملتوی کردی۔  اسلام آباد ہائی کورٹ نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر اغواء کنندگان کی تحویل سے فرار ہونے والے تمام افراد کو آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم دیاہے ۔ جمعہ کو عدالت عالیہ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر مشتمل سنگل بینچ نے سماعت کی ۔ اس موقع پر ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد پولیس نجیب الرحمن بگوی عدالت میں پیش ہوئے اورموقف اختیار کیا کہ اکتیس مارچ 2018 کو عثمان سلیم کو اغواء کیا گیا، عثمان سلیم دو کروڑ تاوان دے کر بازیاب ہوئے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…