لانگ مارچ کب شروع ہوگا؟ اپوزیشن نے سینٹ الیکشن سے پہلے تاریخ کا اعلان کردیا حکومتی صفوں میں کھلبلی مچ گئی

  منگل‬‮ 2 مارچ‬‮ 2021  |  10:59

اسلام آباد،لاہور (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیر نے کہا ہے لانگ مارچ 26 مارچ سے شروع ہوگا۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ابھی یہ طے نہیں ہے کہ لانگ مارچ کب اسلام آباد پہنچے گا، 10اپریل تک دھرنا دیں گے۔محمد زبیر نے کہا کہ عمران خان کی باڈی لینگویج بتا رہی ہے کہ حکومت نروس ہے۔دریں اثنا مسلم لیگ (ن) کینائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ ایک بار پھر ثابت ہو گیا آئین، ووٹ چوروں کی چالبازیوں سے بالاتر ہے، اب کھمبے نوچتی کھسیانی بلیاں ٹیکنالوجی کا واویلا کر رہی ہیں۔مریم نواز


نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ یاد رکھو ڈسکہ دھند ٹیکنالوجی اب نہیں چلے گی، ووٹ کی طاقت سے ڈرتے کیوں ہو؟۔علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ہماری الیکشن کی شفافیت کی علمبردار رہی ہے۔صدارتی ریفرنس سے متعلق سپریم کورٹ کی رائے پر گفتگو کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ سپریم کورٹ نے رائے دی ہے کہ سینیٹ الیکشن آئین کے تحت ہوسکتا ہے، شبلی فراز کی منشا کے مطابق الیکشن نہیں ہوسکتے۔انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلہ کہتا ہے کہ سینیٹ الیکشن آئین کے مطابق ہوگا، سپریم کورٹ کے فیصلے سے آرڈیننس بھی کالعدم ہوگیا ہے۔لیگی ترجمان نے کہا کہ (ن) لیگ کافیصلہ تھاکہ پنجاب میں اپنی نمائندگی کے مطابق نشستیں حاصل کی جائیں، مسلم لیگ (ن) الیکشن کی شفافیت کی علمبردار رہیہے، اکثریت ہونے کے باوجود ہمارا ووٹ چوری کیا گیا۔دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہاہے کہ لڑکھڑاتی حکومت کو سینیٹ انتخابات سے قبل بڑی شکست ہوئی ہے۔ اپنے بیان میں انہوںنے کہاکہ حکومت انتخابات سے بھاگنا چاہتی تھی مگراسے راہ فرار نہیں ملا، حکومتی ترجمانی انتہائی ڈھٹائی سے سپریم کورٹ کی رائے کو اپنی فتح قرار دے رہے ہیں، سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کے ذریعے جو سوال بھیجا اس کا جواب تو نفی میں ملا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کیا سپریم کورٹ نے انتخابات شو آف ہینڈ کے ذریعےکروانے کے حق میں رائے دی، جواب ہے نہیں !۔ انہوں نے کہاکہ کیا صدارتی آرڈیننس سپریم کورٹ کی رائے بعد موثر رہا ہے تو بھی جواب ہے ، نہیں !۔ انہوں نے کہاکہ 3 مارچ یوسف رضا گیلانی کی جیت اور سلیکٹڈ کے امیدوار کے شکست کا دن ہے، ضمنی انتخابات کی طرح سینیٹ انتخابات میں بھی کٹھ پتلی حکومت کو بدترین شکست ہوگی۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

راﺅنڈ اباﺅٹ

اندر کمار گجرال بھارت کے 12 ویں وزیراعظم تھے‘ یہ 1997ءاور 1998ءکے درمیان ایک سال وزیراعظم رہے‘ اٹل بہاری واجپائی ان کے بعد وزیراعظم بنے تھے‘ گجرال جہلم میں پیدا ہوئے تھے‘ ان کی ساری تعلیم جہلم اور لاہور کی تھی اور یہ دل سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر دیکھنا چاہتے تھے‘ میاں نواز شریف کے ....مزید پڑھئے‎

اندر کمار گجرال بھارت کے 12 ویں وزیراعظم تھے‘ یہ 1997ءاور 1998ءکے درمیان ایک سال وزیراعظم رہے‘ اٹل بہاری واجپائی ان کے بعد وزیراعظم بنے تھے‘ گجرال جہلم میں پیدا ہوئے تھے‘ ان کی ساری تعلیم جہلم اور لاہور کی تھی اور یہ دل سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر دیکھنا چاہتے تھے‘ میاں نواز شریف کے ....مزید پڑھئے‎