کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خدشات، عسکری قیادت بھی سر جوڑ کر بیٹھ گئی کورکمانڈر کانفرنس میں آرمی چیف نے خصوصی ہدایات جاری کر دیں

  جمعرات‬‮ 12 مارچ‬‮ 2020  |  21:22

راولپنڈی(این این آئی)پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ خطے میں امن اور استحکام کا راستہ افغانستان سے ہو کر آتا ہے،مشترکہ کوششوں اور تحمل سے تمام چیلنجز پر قابو پایا جاسکتا ہے، پاکستان پوری سنجیدگی سے خطے میں امن واستحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ جمعرات کو پاک فوج شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف کیزیرصدارت کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی جس میں ملکی سلامتی اور سرحدوں کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق کورکمانڈر کانفرنس میں کورونا وائرس سے پیدا


ہونیوالی صورتحال کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر کورونا وائرس کے پیش نظر فوج کی سطح پر احتیاطی تدابیر پر بھی بریفنگ دی گئی جس پر آرمی چیف نے قومی کوششوں میں کردار ادا کرنے کے لیے ہدایات جاری کر دیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق کورونا وائرس کے ملک میں وبائی شکل اختیار کرنے کی صورت میں فوج امدادی کارروائیوں کے لیے تیار ہے۔آئی ایس پی آر نے کہا کہ کور کمانڈرز نے لائن آف کنٹرول کی صورت حال کا بھی جائزہ لیا، اجلاس میں قومی و علاقائی سطح پر جیو اسٹریجک ماحول پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس میں افغان امن عمل پر خصوصی تبادلہ خیال کیا گیا۔‎


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ایک قیمتی سوال

چارلس ٹی میٹکلف  1785ءمیں کلکتہ میں پیدا ہوا تھا‘ والد ایسٹ انڈیا کمپنی میں ڈائریکٹر تھا اور کلکتہ میں تعینات تھا‘ چارلس نے لندن سے تعلیم حاصل کی اور 1801ءمیں واپس آ کر کمپنی کی نوکری کر لی‘ وہ بنگال کے گورنر جنرل لارڈ ویسلے کا پرائیویٹ سیکرٹری تھا‘ برطانیہ اس وقت نپولین بونا پارٹ سے لڑ رہا ....مزید پڑھئے‎

چارلس ٹی میٹکلف  1785ءمیں کلکتہ میں پیدا ہوا تھا‘ والد ایسٹ انڈیا کمپنی میں ڈائریکٹر تھا اور کلکتہ میں تعینات تھا‘ چارلس نے لندن سے تعلیم حاصل کی اور 1801ءمیں واپس آ کر کمپنی کی نوکری کر لی‘ وہ بنگال کے گورنر جنرل لارڈ ویسلے کا پرائیویٹ سیکرٹری تھا‘ برطانیہ اس وقت نپولین بونا پارٹ سے لڑ رہا ....مزید پڑھئے‎