پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

آرمی چیف کی ریٹائر منٹ کوایک ہی صورت میں روکا جا سکتا ہے،چیف جسٹس آصف کھوسہ نے بتا دیا

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے آرمی چیف معاملے پر دوران سماعت ریمارکس میں کہا کہ اگر جنگ ہو رہی ہو تو پھر آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ میں عارضی تاخیر کی جاسکتی ہے۔اس موقع پراٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا کہ ریٹائرمنٹ کی حد کا کوئی تعین نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 255 جس پر آپ انحصارکررہے ہیں وہ توصرف افسران کیلئے ہے۔یہ آرٹیکل تو صرف افسران سے متعلق ہے، آپ کے آرمی چیف اس میں نہیں آتے۔ جس شق میں آپ نے ترمیم کی وہ تو آرمی چیف سے متعلق ہے ہی نہیں۔ دوران سماعت چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ بہت سارے قواعد خاموش ہیں ، کچھ روایتیں بن گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں چھ سے سات جنرل توسیع لیتے رہے ، کسی نے پوچھا تک نہیں۔ اب معاملہ ہمارے پاس آیا ہے تو طے کر لیتے ہیں۔نارمل ریٹائرمنٹ سے متعلق آرمی کے قواعد پڑھیں۔ آرمی ایکٹ کے رول 262 سی کو پڑھیں۔ جنرل کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال دی گئی ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ 262 میں جنرل کی ریٹائرمنٹ کا ذکر نہیں ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 243/3 کے تحت کمیشن ملتا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے اچھا نکتہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ دوبارہ تعیناتی کا ہے۔ 1948ء سے لے کر ابھی تک تقرریاں ایسے ہی ہوئی ہیں۔ دوران سماعت چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ دیکھتے ہیں کہ بحث کب تک چلتی ہے، کچھ دیر وقفے کے بعد کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہو گئی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…