اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

پیپلز پارٹی نہ مسلم لیگ ن کی شخصیت ،عمران خان کو ہٹا کر کس کو وزیراعظم بنا دیں؟ فضل الرحمن کی مقتدر شخصیت سے ملاقات کی اندرونی کہانی منظر عام پر آگئی

datetime 19  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن ، وزیر اعظم عمران خان سے شدید نفرت کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے تجزیہ میں کہا کہ اکتوبر میں مارچ کرنے کی یہ جو بات ہے اس کے بارے میں مولانا فضل الرحمن اپنے ساتھیوں کو خود کہہ

چکے ہیں کہ آگے جا کر سردی ہو جائے گی تو پھر اس تحریک کو چلانا مشکل ہو جائے گا۔یہ ایک دلیل دی گئی ہے، شاید اور بھی وجوہات ہوں گی۔ لیکن میں یہ کہوں گا کہ عمران خان کے بارے میں مولانا کوئی بھی مفاہمت کرنے کو تیار نہیں۔ اگر کوئی اور حکومت ہوتی،کوئی اور وزیر اعظم ہوتا تو شاید وہ اس طرح نہ کرتے، مگر مولانا فضل الرحمن کو عمران خان سے شدید نفرت ہے۔اس لیے وہ ان سے بات چیت بھی نہیں کریں گے۔ اس موقع پرسینئراینکر محمد مالک نے کہا کہ مولانا کی ایک انتہائی مقتدر شخصیت سے ملاقات ہوئی، اُنہیں بلایا گیا اور پوچھا گیا کہ آپ کا مسئلہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ عمران خان کو ہٹا دیں، اس کے علاوہ جس کو مرضی بنا دیں۔تاہم مولانا کو واضح طور پر بتا دیا گیا کہ اس طرح سے نظام نہیں چلتا اور اس طرح آپ کے کہنے سے تبدیلی نہیں ہو گی۔ سو انہیں یہ تو پتا چل گیا ہے کہ ایسے نہیں ہو گا۔ لیکن وہ سب کچھ صرف اس لیے داؤ پر لگا رہے ہیں کہ ان کی انا مجروح ہوئی ہے۔ اگر انا کا مسئلہ ہی ہے تو پھر مولانا نے ماضی میں ایسے کئی سمجھوتے کیے جن میں انا کا بڑا تعلق تھا۔ جس پر رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ مولانا نے بہت سے سمجھوتے کیے ہیں، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بہت زیرک سیاست دان ہیں۔یہ اس حد تک جاتے ہیں جہاں تک ممکن ہو اور پھر یہ واپسی بھی کرتے ہیں۔

جہاں تک عمران خان کو ہٹانے کا کام ہے، زیادہ کام خود انہی کی پارٹی کو کرنا پڑے گا۔ باقی جماعتیں ان کی علامتی حمایت کریں گے، لیکن میرے خیال میں وہ آخری حد تک نہیں جائیں گے۔یا درہے کہ آزادی مارچ میں 2ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…