مجھ سے معیشت پر سوال کب کیا جائے؟ 5 سال بعد معیشت کہاں ہو گی؟ وزیراعظم نے قوم کوبتا دیا

  ہفتہ‬‮ 14 ستمبر‬‮ 2019  |  22:04

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) حکومت کے پانچ سال مکمل ہو جائیں تب ملک کی معیشت پر سوال کیا جائے، یہ بات وزیراعظم پاکستان عمران خان نے الجزیرہ ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں کہی، انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت میں ماضی کی طرح کوئی بزنس ایمپائر نہیں بنا رہا،وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یہ نیا پاکستان ہے کیونکہ میگا کرمنل کیسزمیں جس طرح لوگ جیلوں میں ہیں پہلے کبھی نہیں تھے۔انہوں نے انٹرویو کے دوران کہا کہ 13 مہینوں میں وزیراعظم یا کسی وزیر کے خلاف کرپشن کیس نہیں آیا یہی نیا پاکستان ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ


جب وزارت عظمی ٰ کا منصب سنبھالا تو پاکستان پر 90.5 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا، ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں ہم نے 70فیصد کمی کردی ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے برآمدات بڑھائی ہیں اور درآمدات کم کی ہیں، وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی چالیس فیصد بجلی درآمدی ایندھن سے حاصل ہوتی ہے، انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سٹیل مل آئندہ چار ماہ میں کام کرنا شروع کر دے گی، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میری حکومت کے پانچ سال مکمل ہو جائیں تو تب ملک کی معیشت پر سوال کیا جائے، انہوں نے کہا کہ کسی حکومت کی کارکردگی جانچنے کا وقت پانچ سال بعد کا ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ پہلی دفعہ پاکستان میں معیشت کو درست کیا جا رہا ہے، وعدہ کرتا ہوں کہ پانچ سال بعد حکومت چھوڑیں گے تو سرپلس اکنامی ہو گی، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان کا آئی ایم ایف سے یہ آخری پیکج ہو گا، ہمیں آئی ایم ایف کی جانب سے اخراجات میں کمی اور ریونیو بڑھانے کے علاوہ کچھ نہیں کہا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت میں روایتی جنگ ہوئی تواختتام ایٹمی جنگ پر ہوگا اورایٹمی جنگ کے نتائج صرف دو ملکوں کے درمیان نہیں بلکہ پوری دنیا میں پھیلیں گے جو بہت بھیانک ہونگے۔وزیراعظم عمران خان نے الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایٹمی جنگ سے بچنے کیلئے عالمی برادری کو کردار ادا کرنا ہوگاکیونکہ ہم نے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کامعاملہ اٹھایاہے تاکہ جنگ سے بچا سکے لیکن ہندوستان نے پاکستان یا آزاد کشمیر میں کوئی جارحیت کی تو اسکا منہ توڑ جواب دیں گیاورہندوستان کو پتہ ہونا چاہئے کہ پاکستانی قوم ایک ایسی قوم ہے جو خون کے آخری قطرے تک لڑے گی انہوں نے کہا کہ جب بھی دو ایٹمی طاقتیں لڑیں گی تو اختتام اسکا بھیانک ہوگا اور ہمیں سنگین نتائج کا سامنا کرنے پڑے گا اور اس ایٹمی جنگ کے نتائج پوری دنیامیں پھیلیں گے،انہوں نے کہا کہ مودی نے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے اور وہ ایک ہٹلر کا کردار ادا کررہے ہیں،ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں الیکشن کے دوران ہی ہمیں اندازا ہوگیا تھا کہ مودی ایک بار پھر برسراقتدار آئیں گے اور ہمیں یہ تشویش تھی کہ بی جے پی کی کامیابی سے ایک بار پھر پاک بھارت تعلقات کشید ہ ہوں گے اور عین مطابق وہی حالات چل رہے ہیں،پاکستان کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ بھارت کو مذاکرات کی میز پر لائیں اور ہم اس کوشش میں کامیاب بھی رہیں ہیں،مذاکرات میں دونوں ملکوں کے مابین تمام معاملات پر اتفاق ہو جاتا ہے جب کشمیر کی بات آتی ہے تو بھارت بھاگ جاتا ہے،ہم نے مسئلہ کشمیر کے ایشو کو ہر فورم پر کامیابی سے اٹھایا ہے اور بین الاقوامی ممالک نے مسئلہ کشمیر پر ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے،اقوام متحدہ سمیت تمام بین الاقوامی اداروں نے مسئلہ کشمیر کے حل لئے بھارت پر دباؤ ڈالا ہے، مسئلے کے حل کیلئے سلامتی کونسل کی قرار داد موجود ہے،دنیا کے تمام اقوام کو چاہیے کہ وہ اس قرار داد پر عملدرآمد کرائیں،عمران خان نے کہا کہ واشنگٹن میں بین الاقوامی ممالک کے سربراہوں کے ساتھ مسئلہ کشمیر بھر پور طریقے سے اٹھاؤں گا،میری تجویز ہے کہ امریکہ،روس اور چین مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں،اس حوالے سے ان ممالک کے سربراہوں سے بات کر چکا ہوں اور خوشی ہے کہ امریکہ،چین اور روس نے مسئلہ کے حل کیلئے ہماری تجویز پر کی مکمل حمایت کی ہے جس کا میں ان کا مشکور ہوں۔

موضوعات:

loading...