روس کیخلاف لڑیں تو جہادی اور امریکہ کیخلاف لڑیں تو دہشتگرد،یہ تضاد کیوں؟نائن الیون کے بعد امریکی جنگ نہ لڑتے تو ہم دنیا کا خطرناک ملک نہ ہوتے،عمران خان دل کی باتیں زبان پر لے آئے

  جمعرات‬‮ 12 ستمبر‬‮ 2019  |  16:10

اسلام آباد( آن لائن ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکا کے کامیاب نہ ہونے کا الزام پاکستان پر لگانا غیر منصفانہ ہے، ہم نا ئن الیو ن کے بعد امریکا کی جنگ نہ لڑتے توہم دنیا کا خطرنا ک ملک نہ ہو تے ، میں شروع سے اس جنگ کے خلاف تھا ۔وزیراعظم عمران خان نے روسی ٹی وی ’آر ٹی‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف امریکا کی جنگ میں پاکستان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، ہم نے 70 ہزار جانیں گنوائیں اور 100 ارب ڈالر کا نقصان بھی ہوا،


پاکستان کو امریکا کی اس جنگ میں غیر جانبدار رہنا چاہیے تھا، میں شروع سے اس جنگ کے خلاف تھا، ہم نائن الیون کے بعد امریکا کی جنگ نہ لڑتے تو ہم دنیا کا خطرناک ملک نہ ہوتے۔انہو ں نے کہا کہ اتنے نقصانات کے باوجود آخر میں امریکا کی ناکامی پر ہمیں ہی قصوروار ٹھہرایا گیا اور امریکا اپنی ناکامیوں کا الزام پاکستان پر عائد کرتا ہے، یہ پاکستان کے ساتھ ناانصافی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ سوویت یونین کیخلاف جنگ کا فنڈ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے دیا تھا اور پاکستان نے مجاہدین کو تربیت دی، روس کے خلاف لڑنے والے جہادی تھے جبکہ ایک عشرے بعد جب امریکا افغانستان گیا تو کہا گیا کہ یہ جہاد نہیں یہ دہشتگردی ہے، یہ بہت بڑا تضاد تھا جسے میں نے محسوس کیا، جبکہ امریکا کا اتحادی بننے سے یہ گروپس بھی ہمارے خلاف ہوگئے۔

موضوعات:

loading...