جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

چیف جسٹس نے ڈاکٹر شاہد مسعود کا پروگرام تین مہینے کیلئے بند کرنے کا حکم دیدیا، آپ نے پھانسی مانگی تھی وہ نہیں دے رہے جسٹس ثاقب نثار دوران سماعت اینکر پر برس پڑے

datetime 20  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) شاہد مسعود کی ہمت کیسے ہوئی کہ عدالت کے لا افسر کی تضحیک کریں، دیکھتا ہوں کہ کتنے دن آپ کا پروگرام چلتا ہے، چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود پر برہم۔ تفصیلات کے مطابق زینب قتل کیس ازخود نوٹس کیس میں ڈاکٹر شاہد مسعود کی جھوٹے دعوئوں سے متعلق کیس کی سماعت آج سپریم کورٹ میں ہوئی۔

اس موقع پر ڈاکٹرشاہد مسعود بھی اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار ڈاکٹر شاہد مسعود پر برس پڑے اور سخت اظہار برہمی کیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’’ شاہد مسعود کی ہمت کیسے ہوئی کہ عدالت کے لاءافسر کی تضحیک کرے، میں دیکھتاہوں کتنے دن آپ کا پروگرام چلتاہے‘‘۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ شاہد مسعود نے سماعت کے بعد اپنے پروام میں لا افسر کی تضحیک کی ہے۔ ان کے پروگرام کی ریکارڈنگ چلاتے ہیں، اس موقع پر چیف جسٹس نے عدالت میں پروجیکٹر لگانے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ توہین عدالت میں چارج کروں گا، میں نے توہین عدالت میں چارج کرنا ہے تو اسکرین لگوالیتےہیں۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ہم نےآپ سے محبت کی اسی لیےعزت سےپیش آرہے ہیں، وکیل صاحب انہیں سمجھائیں عزت کرانی بھی پڑتی ہے، ایک آدمی جو جھوٹ بول رہا ہو اور عدالت میں جھوٹ بولے، ایسے شخص کے کیس کو سن لیتےہیں۔وکیل کا کہنا تھا کہ زینب کے وکیل آج ہائی کورٹ میں ڈی این اے سے متعلق بات کریں گے، جس پر عدالت نے کہا کہ انہوں نے بازو اوپر کرکے بات کی‘ ہم نے پہلے ان کو دیکھنا ہے۔بعد ازاں سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت میں وقفہ ہوگیا ، کچھ دیرمیں دوبارہ سماعت شروع ہونے پر چیف جسٹس دوبارہ عدالت میں تشریف لائے ۔سماعت کے دوران شاہد مسعود نے سپریم کورٹ سے

غیر مشروط معافی مانگ لی ۔ چیف جسٹس نے ڈاکٹر شاہد مسعودکا پروگرام تین مہینے کیلئے بند کرنے کا اعلان حکم دیدیا ہے۔ چیف جسٹس کا فیصلہ سناتے ہوئے شاہد مسعود کو کہا کہ آپ نے پھانسی مانگی تھی وہ نہیں دے رہے۔



کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…