بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

الامارات، فلائی دبئی اوراتحاد کے مسافروں کواب چہرے پرماسک پہننے کی ضرورت نہیں

datetime 28  ستمبر‬‮  2022 |

ابوظہبی (این این آٗی)متحدہ عرب امارات کے حکام نے اسکولوں اور شاپنگ مالوں جیسے عوامی مقامات پرماسک پہننے کی پابندی کے خاتمے کا اعلان کیا ہے۔اس کے بعد اب الامارات ، فلائی دبئی اور اتحاد ایئرویز کی پروازوں میں سفرکرنے والے مسافروں کو بھی چہرے پر ماسک پہننے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

متحدہ عرب امارات کی نیشنل ایمرجنسی کرائسزاور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این سیما) کے اعلان کے مطابق مکینوں کوبدھ 28 ستمبر سے تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ خریداری مراکز، مالوں ،سپرمارکیٹوں، ہوٹلوں اور ریستورانوں میں چہرے کو ڈھانپنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔یو اے ای کی ملکیتی مذکورہ تینوں فضائی کمپنیوں نے فوری طور پر اس حکم کی تعمیل کرتے ہوئے دورانِ سفر مسافروں کو ماسک نہ پہننے کی ہدایات جاری کی ہیں اور اس کو اختیاری قراردیا ہے۔الامارات نے اپنی ویب سائٹ پرکہا ہے کہ کمپنی کی اندرون اور بیرون ملک کی پروازوں میں فیس ماسک پہننا اختیاری ہے۔اس کے علاوہ 28 ستمبر سے فلائی دبئی کی پروازوں میں دبئی جانے والے مسافر بھی اپنا چہرہ ڈھانپے بغیر سفرکرسکتے ہیں۔ایئرلائن نے اپنی ویب سائٹ پرمزیدوضاحت کی ہے کہ ہوائی اڈے پرفیس ماسک پہننا اختیاری ہے اور لازمی نہیں ہے۔اتحادایئرویز نے بھی طیارے میں ماسک پہننے کے حوالے سے اپنے قواعدوضوابط میں نرمی کی ہے۔ البتہ ایئرلائن نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ بھارت، چین اور مالدیپ سمیت متعدد مقامات پر سفر کرنے والے مسافروں کو اب بھی چہرے پر ماسک پہننا ہوگا۔متحدہ عرب امارات میں کووڈ 19 کی وبا کا انتظام کرنے والے ادارے این سیما کے ذریعے جاری کردہ نئے

قواعد کے مطابق اب صرف عبادت گاہوں ، اسپتالوں اورنقل وحمل کے عوامی ذرائع میں ماسک پہننا ضروری ہوگا۔این سیما نے یہ بھی اعلان کیا کہ کووڈ 19 سے متاثرہ افراد کے گھروں میں الگ تھلگ رہنے

کی مدت اب 10 دن سے کم کرکے پانچ دن کردی جائے گی ، جبکہ صرف کووِڈکیمثبت ٹیسٹ والے شخص کو قرنطینہ کرنے کی ضرورت ہوگی اور اس کے ساتھ قریبی رابطے میں رہنے والے کسی شخص کوایسا کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…