عرب امارات میں شادی،تعزیتی اجتماعات میں شرکا بڑھانے کی اجازت

  بدھ‬‮ 20 اکتوبر‬‮ 2021  |  16:07

ابوظہبی (این این آئی)متحدہ عرب امارات نے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے نافذالعمل قواعدوضوابط میں مزید نرمی کردی ہے اور اب گھروں میں منعقد ہونے والی سماجی تقریبات اور اجتماعات کی گنجائش 80 فی صد کردی ہے بشرطیکہ شرکا کی مجموعی تعداد 60 سے زیادہ نہ ہو۔ان کے علاوہ زیادہ سے زیادہ دس افراد مہمان نوازی کی خدمات انجام دے سکیں گے۔میڈیارپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات کی نیشنل ایمرجنسی کرائسیس اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این سیما)نے آیندہ جمعہ سے گھروں میں شادی کی تقریبات اور تعزیتی اجتماعات کے انعقاد کے لیے کروناوائرس کے نظرثانی شدہ پروٹوکول


جاری کیے ہیں۔این سیما نے ایک بیان میں کہا کہ چودہ دن کے وقفے سے منظورشدہ ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوانے ،پروٹوکول کے مطابق سبز راہ (گرین پیسج) کی شرائط کو پورا کرنے اور یو اے ای کی وات صحت کی الحوسن ایپلی کیشن میں اپنی مکمل ویکسی نیشن اور تیسری خوراک کی ضرورت کا اندراج کرنے والوں کو تقریب میں شرکت کی اجازت ہے۔این سیما نے مزید وضاحت کی کہ کسی بھی تقریب میں شرکت کے خواہاں افرادکو اس کی مقررہ تاریخ سے زیادہ سے زیادہ 48 گھنٹے قبل کرائے گئے پی سی آر ٹیسٹ کا منفی نتیجہ پیش کرنا ہوگا۔نئے پروٹوکول میں تمام حاضرین کی صحت کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے متعدد حفاظتی اقدامات بھی شامل ہیں۔اس میں تقریب میں داخل ہونے سے پہلے درجہ حرارت کی پیمائش، ہروقت ماسک پہننے کی لازمی پابندی اورتقریب گاہ میں جراثیم کش اسپرے شامل ہے۔تقریب میں شریک ہونے والے افراد کی جراثیمی تطہیر کے لیے آلات دستیاب ہونے چاہئیں۔این سیما کا کہنا تھا کہ کسی گھریا پنڈال میں داخلے کا عمل منظم ہونا چاہیے اوروہاں کوئی ازدحام یا ہجوم نہیں لگنا چاہیے۔ہم داخلے اور خروج کے عمل کو منظم کرنے میں رکاوٹوں کے استعمال کی سفارش کرتے ہیں۔ہم مصافحہ یا گلے ملے بغیرسلام کرنے اورہروقت ڈیڑھ میٹر کے جسمانی فاصلے کے اصول پرعمل کرنے کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ دس افراد کو ایک میز پر بیٹھنے کی اجازت دینے پر زور دیتے ہیں۔اتھارٹی نے معززعوام پر زوردیا کہ وہ مدعو افراد کو خبردارکریں،اگرانھیں نظام تنفس کی کوئی علامات ظاہر ہورہی ہیں یا بخار محسوس ہوتا ہے تو وہ تقریب میں شرکت نہ کریں۔


زیرو پوائنٹ

پاکستان کے اصل ایٹمی اثاثے

سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ پاکستان کے بڑے ویلفیئر ٹرسٹس میں شمارہوتا ہے‘ یہ ادارہ مولانا بشیر قادری صاحب نے 1999میں بنایا تھا‘ ملک بھر میں سیلانی کے دستر خوان بھی چل رہے ہیں اور فلٹریشن پلانٹس بھی‘ یہ لوگ روزانہ ضرورت مندوں کو ایک کروڑ روپے کا کھانا کھلاتے ہیں۔فلٹریشن پلانٹس‘ جہیز فنڈز‘ اجتماعی شادیاں اور مفت ادویات اس کے علاوہ ....مزید پڑھئے‎

سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ پاکستان کے بڑے ویلفیئر ٹرسٹس میں شمارہوتا ہے‘ یہ ادارہ مولانا بشیر قادری صاحب نے 1999میں بنایا تھا‘ ملک بھر میں سیلانی کے دستر خوان بھی چل رہے ہیں اور فلٹریشن پلانٹس بھی‘ یہ لوگ روزانہ ضرورت مندوں کو ایک کروڑ روپے کا کھانا کھلاتے ہیں۔فلٹریشن پلانٹس‘ جہیز فنڈز‘ اجتماعی شادیاں اور مفت ادویات اس کے علاوہ ....مزید پڑھئے‎