پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی پالیسیوں اور شہریت کے قانون پرکھل کر تنقید، مودی حکومت نے مہاتیر محمد سے بدلہ لے لیا

datetime 14  جنوری‬‮  2020 |

واشنگٹن (انٹرنیشنل پریس ایجنسی) بھارتی حکومت نے ملک کے درآمد کنندگان کو ہدایت کی تھی کہ وہ ملائیشیا سے ریفائینڈ پام آئل اور پامولین کی درآمد مکمل طور پر بند کر دیں جس پر اس ہفتے سے سختی کے ساتھ عمل درآمد کر لیا گیا ہے ۔

ملائیشیا کے وزیرِ اعظم مہاتیر محمد کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں حکومتی اقدامات اور نئے شہریت کے قانون پر شدید تنقید کے بعد بھارتی حکومت نے مذکورہ فیصلہ کیا ہے۔بھارت کے ایک کلیدی ریفائنر نے امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا ہے کہ سرکاری طور پر پام آئل کی درآمد پر کوئی پابندی نہیں ہے تاہم حکومت کی ہدایات کی وجہ سے کوئی بھی درآمد کنندہ ملائیشیا سے پام آئل نہیں خرید رہا، انہوں نے بتایاکہ اب پام آئل ملائیشیا کی بجائے انڈونیشیا سے خریدا جا رہا ہے جس کے لیے ملائیشیا کے مقابلے میں زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے‘بھارت پام آئل درآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے اور وہ ملائیشیا اور انڈونیشیا سے سالانہ 90 لاکھ ٹن پام آئل درآمد کرتا ہے.بھارتی درآمدکنندگان کو ملائیشیا سے آنے والا پام آئل انڈونیشیا سے درآمد کرنے پر دس ڈالر فی ٹن زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے ،اعداد و شمار کے مطابق بھارت نے 2019 کے دوران ملائیشیا سے 44 لاکھ ٹن پام آئل درآمد کیا تھا ،ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے بھارت میں پام آئل کی قیمت میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ممبئی کے ایک درآمد کنندہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ضرورت کا تمام پام آئل ملائیشیا سے درآمد کرتے ہیں تاہم حکومت نے اسے وارننگ دی ہے کہ اگر بندرگاہ پر پہنچنے کے بعد پام آئل کو روک لیا گیا تو وہ حکومت سے کسی مدد یا رعایت کی توقع نہ رکھے۔

بھارتی حکومت کی جانب سے ملائیشیا سے پام آئل کی درآمد پر مکمل پابندی کے بارے میں کوئی واضح اعلان نہیں کیا گیا اور وزارت تجارت کی جانب سے میڈیا کی طرف سے رابطوں کے باوجود کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے.ادھر ملائیشیا کی پرائمری انڈسٹریز کے وزیر ٹیریسا کوک نے بھی اس بارے میں کوئی بیان دینے سے گریز کیا ہے بھارتی سرکاری ذرائع نے میڈیا کو بتایا ہے کہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قوم پرست حکومت نے یہ اقدام ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کی طرف سے کشمیر میں بھارتی پالیسیوں اور بھارت کے نئے شہریت کے قانون پر شدید تنقید کے بعد اٹھایا ہے‘مہاتیر محمد نے گزشتہ برس اکتوبر میں کہا تھا کہ بھارتی حکومت نے مسلم اکثریت کے علاقے جموں و کشمیر پر حملہ کر دیا ہے. انہوں نے گزشتہ ماہ بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ بھارتی حکومت کے شہریت سے متعلق نئے قانون سے ملک میں بدامنی کی فضا پیدا ہوئی ہے اور یہ اقدام بھارت کے سیکولر تشخص کی نفی کرتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…