جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

ناروے میں سینکڑوں مسلمانوں کی کھلے آسمان تلے قرآن خوانی،اجتماع میں بڑی تعداد میں خواتین اور بچے بھی شریک

datetime 2  دسمبر‬‮  2019 |

اوسلو (این این آئی)ناروے کی انتہائی سخت سردی میں کھلے آسمان تلے سیکڑوں مسلمانوں نے قرآن کی تلاوت کر کے کلام الٰہی سے اپنی عقیدت کا اظہار کیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں گزشتہ روز سیکڑوں مسلمان جن میں اکثر نارویجن پاکستانی تھے، کھلے آسمان تلے جمع ہوئے اور پورا ایک گھنٹہ سورۃ یاسین کی تلاوت کرکے قرآن کریم سے اپنی عقیدت اور وابستگی کا اظہار کیا۔

یہ اجتماع اوسلو کے علاقے گرورود کے فٹ بال گراونڈ میں منفی آٹھ درجے سینٹی گریڈ انتہائی سرد موسم میں منعقد ہوا جس کی نظامت کے فرائض جامعہ باب العلم آستانہ عالیہ آل رسول اوسلو کے مہتمم مولانا سید فراست علی بخاری نے سرانجام دیئے۔اس تقریب میں گرورود گرجا گھر کی خاتون پادریہ مس انے بریت ایوانگ نے خصوصی طور پر شریک ہو کر مسلمانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔اجتماع کے منتظم سید فراست علی بخاری نے خاتون پادریہ کو قرآن کریم اور بائبل کی ایک سو مشابہ آیات کے بارے میں نارویجن زبان میں اپنی کتاب پیش کی۔اجتماع میں شریک سرد لباس زیب تن کیے ہوئے لوگوں نے ہاتھوں میں قرآن کریم اٹھائے ہوئے تھے اور وہ اجتماع کے ناظم کے ساتھ مل کر قرآن کریم کی تلاوت کرتے رہے، اجتماع میں بڑی تعداد میں خواتین اور بچے بھی شریک ہوئے، اختتام پر دعا کی گئی۔ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں یہ اجتماع ایسے وقت میں منعقد کیا گیا جب دوہفتے قبل ناروے کے جنوبی شہر کرستیان ساند میں ایک انتہاپسند شخص نے پولیس کے منع کرنے کے باوجود لوگوں کے سامنے قرآن کریم کو آگ لگادی تھی جس سے پوری دنیا کے مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر پھیل گئی۔اس موقع پر ایک شامی نڑاد مسلمان نوجوان عمردھابہ نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے قرآن کریم کی بے حرمتی کرنے والے اس متعصب شخص کو روکا اور پھر نارویجن پولیس نے قرآن کے جلتے ہوئے نسخے سے آگ بجھائی۔قرآن کریم کی آتش سوزی کے واقعے کے کچھ دن بعد کرستیان ساند شہر میں بھی سیکڑوں نارویجن مسلمان اور غیرمسلموں نے اسی مقام پر جمع ہوکر وہاں کلام الٰہی کی تلاوت کی جہاں اس کتاب مقدس کو آگ لگائی گئی تھی۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس واقعے کے بعد ناروے سمیت پورے یورپ میں لوگوں میں قرآن کریم کے مطالعے کے رحجان میں اضافہ ہوا۔ یورپی مسلمانوں نے قرآن کریم سے اپنی محبت کے اظہار کے لیے اس کلام الٰہی کو پہلے سے زیادہ پڑھنا شروع کردیا ہے اور غیرمسلم اس لیے اس کا مطالعہ کررہے ہیں تاکہ دیکھا جائے اس کتاب میں کیا ہے جس کے تقدس کو مسلمان ہرگز پامال نہیں ہونے دیتے۔کئی غیرمسلم ایسے ہیں جو انسانیت کے ناطے اس موقع پر مسلمانوں سے یکجہتی ظاہر کررہے ہیں تاکہ مسلمانوں کے زخمی دلوں پر مرہم لگائی جاسکے۔

اسی حوالے سے ناروے میں منھاج القرآن اوسلو، نارویجن مسلم آرٹس و کلچر ایسوسی ایشن اور اسلامک لٹریچر ایسوسی ایشن نے نارویجن زبان میں قرآن کریم کے دس ہزار نسخے ناروے کے لوگوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ ان لوگوں تک قرآن کریم کا محبت اور انسانیت دوستی کا پیغام پہنچ سکے۔ادھر ناروے میں پاکستان کے سفیر ظہیر پرویز خان نے کہا کہ ہم نارویجن لوگوں کے شکرگزار ہیں جنہوں نے دکھ کے اس موقع پر مسلمانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے، وہ گز شتہ روز اوسلو میں اسلام آباد، راولپنڈی ویلفیئرسوسائٹی کے زیراہتمام سوسائٹی کے سابق صدر مرزا محمد ذوالفقار مرحوم کی یاد میں تعزیتی ریفرنس سے خطاب کررہے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…