ترک صدر طیب اردوان نے انسانی ہمدردی کی عمدہ مثال قائم کردی

  جمعرات‬‮ 19 ستمبر‬‮ 2019  |  15:00

انقرہ(این این آئی)ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہاہے کہ شمالی شام میں ترکی جس سیف زون کے قیام کے لیے کوشاں ہے وہاں تقریبا 30 لاکھ شامی پناہ گزینوں کی واپسی ہو سکتی ہے۔ترکی اس وقت 36 لاکھ سے زیادہ شامی پناہ گزنیوں کی میزبانی کر رہا ہے۔ شام میں آٹھ برس کی جنگ کے بعد ترکی میں عوامی اور سرکاری سطح پر ان پناہ گزینوں کی موجودگی کے حوالے سے عدم اطمینان اور ناراضگی دیکھنے میںآ رہی ہے۔امریکا کے ساتھ مل کر کام کرنے والی ترکی کی فورسز شمالی شام میں ایک وسیع علاقے کی تطہیر کے


لیے کوشاں ہے تا کہ کرد باغیوں کو اپنی سرحد سے دور کیا جائے اور شامی پناہ گزینوں کی واپسی کو آسان بنایا جائے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایردوآن نے ٹیلی وژن پر خطاب میں کہا کہ سیف زون کے قیام میں کامیابی کی صورت میں ہم اس علاقے میں 20 سے 30 لاکھ کے درمیان پناہ گزینوں کو ٹھکانہ فراہم کر سکیں گے جو اس وقت ترکی اور یورپ میں مقیم ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم ادلب میں امن کو جلد یقینی بنانے میں کامیاب نہ ہوئے تو پھر ہم اس علاقے میں بسنے والے چالیس لاکھ شامیوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکیں گے۔ ایردوآن نے ایک بار پھر دھمکی دی کہ اگر رواں ماہ کے اواخر تک کرد عناصر ترکی کی سرحد سے دور نہ ہوئے تو ان کو حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔البتہ کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کا شمالی شام میں مضبوط وجود ہے اور اسے داعش تنظیم کے خلاف لڑائی میں امریکا کا ایک مرکزی حلیف شمار کیا جاتا ہے۔ترکی 2016 اور 2018 میں مذکورہ کرد یونٹس اور داعش تنظیم کے خلاف یک طرفہ فوجی آپریشن کر چکا ہے۔

موضوعات:

loading...