بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

کیا تم اپنی بیوی کو پیٹتے ہو؟ امریکہ کے سوال نے مسلمانوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا

datetime 7  مارچ‬‮  2017 |

اوکلوہاما(این این آئی)امریکا کی ریاست اوکلوہوما سے تعلق رکھنے والے ایک قانون ساز جان بینیٹ نے اپنے ملاقاتی مسلمانوں کے لیے ایک تحریری سوال نامہ مرتب کیا ہے اور اس میں ایک انوکھا سوال بھی شامل ہے۔اس میں مسلمانوں سے دیگر سوالوں کے علاوہ یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ کیا تم اپنی بیویوں کو پیٹتے ہو۔میڈیارپورٹس کے مطابق ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے یہ وہی انتہا پسند ریاستی قانون ساز ہیں جنھوں

 

نے کچھ عرصہ قبل کہا تھا کہ اسلام ایک کینسر ہے اور اس کو امریکا سے کاٹ پھینکنا چاہیے۔ان کے دفتر نے جمعرات کو یہ سوال نامہ تقسیم کیا تھا۔اسی روز امریکی اسلامی تعلقات کونسل (کیئر) کی اوکلا ہوما شاخ نے اپنا سالانہ یوم مسلم منایا تھا۔جان بینیٹ کے دفتر نے ان سے ملنے کے لیے آنے والے اسلامی اسکول کے تین طلبہ کو یہ سوال نامہ دیا تھا۔اس سوال نامے میں مسلمانوں سے یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ کیا وہ حماس اور حزب اللہ ایسے دہشت گرد گروپوں کی مذمت کرتے ہیں ؟کیا وہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ اسلام کو چھوڑنے والے سابق مسلمانوں کو سزا دی جانی چاہیے؟ ایک سوال یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ کیا اسلامی شریعت کا غیر مسلموں پر اطلاق کیا جانا چاہیے؟شہری حقوق کی تنظیموں اور امریکی اسلامی تعلقات کونسل کی اوکلاہوما شاخ نے اس سوال نامے پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔کیئر اس شہر کے مکین قریباً چالیس ہزار مسلمانوں کی نمائندہ ہے۔اوکلو ہوما میں کیئر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر آدم سلطانی نے ایک بیان میں کہا کہ کسی بھی شخص کا احمقانہ ، اسلام فوبیا،نفرت انگیزی اور تعصب پر مبنی سوالات کے ذریعے شخصی جائزہ نہیں لیا جانا چاہیے‘‘۔ مسٹر بینیٹ نے اس سوال نامے کے حوالے سے ایسوسی ایٹڈ پریس کے چھوڑے ایک پیغام کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ریاست اوکلا ہوما کے ایوان نمائندگان کے اس منتخب رکن نے ماضی میں اسلام کو اپنی قوم کے لیے ایک

 

سرطان قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس کو کاٹ پھینکنے کی ضرورت ہے۔ بینیٹ نے اکتوبر میں مذہبی مطالعے کے لیے بلائے گئے ایک اجلاس میں کیئر اور ایک مقامی امام کو دہشت گرد قرار دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…