وہ جھوٹ جوخواتین اپنے شریک حیات سے بولتی ہیں

  جمعہ‬‮ 10 جولائی‬‮ 2015  |  16:01

اسلام آباد(نیوزڈیسک )آپ اپنی بیوی یا منگیتر کے لیے جیسے جذبات رکھتے ہوںاورآپ کوان سے کتناہی پیارہواوروہ بھی آپ کے لئے ایسے ہی جذبات رکھتی ہو لیکن پانچ ایسی چیزیں ہیں جو وہ آپ کو کبھی بھی صحیح نہیں بتائے گی اور ہمیشہ جھوٹ بولے گی۔

مجھے آپ پر کوئی غصہ نہیں
چاہے صورتحا ل کچھ بھی ہو لیکن لڑکی کبھی بھی اہنے ہم سفرسے یہ نہیں کہتی کہ اسے غصہ ہے بلکہ وہ اس غصے کوچھپاتی ہے اور کوشش کرتی ہے کہ آپ خود اس کی ذہنی حالت کو سمجھیں۔
سب ٹھیک ہے۔
اگر آپ کو یہ سننے کومل جائے کہ سب ٹھیک ہے تو جان لیں کہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے اور آنے والے دن آپ کے لئے سخت ہوسکتے ہیں۔اگر آپ کو ایسی صورت حال کا سامنا ہوتو ہاتھ پر ہاتھ دھر کر مت بیٹھ جائیں بلکہ اپنی شریک حیات سے بار بار پوچھیں تاکہ مسئلہ حل کیا جاسکے۔

مقررہ وقت پر تیار ہوں گی
یہ وہ جھوٹ ہے جوہر لڑکی ضرور بولتی ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ لڑکی مقررہ وقت پر تیار ہوجائے۔آپ کو چاہیے کہ اس وقت کے دوران اپنے کام نمٹا لیں ۔اس طرح بیگم کو یہ احساس تو ہوگا کہ آپ اس کے لئے انتظار کررہے ہیں۔
جا مزے لو
کوئی لڑکی یہ نہیں چاہتی کہ اس کاشوہر اکیلے مزے اڑائے اور اس کی کوشش ہوگی کہ وہ بھی اس کے ساتھ انجوائے کرے لیکن اگر وہ یہ کہہ دے کہ جا اپنی زندگی کا لفط اٹھا تو اس بات کو اپنے لئے خطرے کی گھنٹی سمجھیں۔کوشش کریں کہ جب بھی ایسی صورتحا ل کا سامنا ہو تو اپنی شریک حیات کواعتمادمیں لیں اور اسے یہ باور کروائیں کہ آپ اس کے بغیر خوش نہیں رہ سکتے۔
میں مختلف ہوں
یہ وہ بات ہے جو ہر بیوی کہتی ہے تاکہ اپنے شوہر کے بھروسے کوجیت سکے لیکن آپ کبھی بھی اس دھوکے میں آکر اپنی ماضی کی زندگی سے پردہ اٹھانے کی کوشش مت کریں ورنہ نقصان کے ذمے دار آپ خود ہوں گے۔



زیرو پوائنٹ

سانو۔۔ کی

سانو ۔۔کی پنجابی زبان کا ایک محاورہ یا ایکسپریشن ہے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے‘ ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے‘ ہمارا کیا نقصان ہے یاپھر آئی ڈونٹ کیئر‘ ہم پنجابی لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک اوسطاً دن میں تیس چالیس مرتبہ یہ فقرہ ضرور دہراتے ہیں لہٰذا اس کثرت استعمال کی وجہ ....مزید پڑھئے‎

سانو ۔۔کی پنجابی زبان کا ایک محاورہ یا ایکسپریشن ہے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے‘ ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے‘ ہمارا کیا نقصان ہے یاپھر آئی ڈونٹ کیئر‘ ہم پنجابی لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک اوسطاً دن میں تیس چالیس مرتبہ یہ فقرہ ضرور دہراتے ہیں لہٰذا اس کثرت استعمال کی وجہ ....مزید پڑھئے‎