چینی کمپنی نے ملازم خواتین پر حاملہ ہونے کیلئے اجازت ضروری قرار دیدی

  پیر‬‮ 6 جولائی‬‮ 2015  |  11:07

بیجنگ(نیوزڈیسک)چین سے اطلاعات ہیں کہ ایک کاروباری کمپنی نے اپنے ملازمین سے کہا ہے کہ وہ بچے پیدا کرنے یا حاملہ ہونے سے قبل باقاعدہ اجازت لیں۔اس خبر پر سرکاری ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔چین کے صوبے ہننان میں ایک مالیاتی کمپنی نے اپنے ملازمین سے کہا کہ وہ 25 بچہ پیدا کرنے کے شیڈول میں جگہ 24 لینے کے لیے پہلے سے درخواست دیں اور وہ ایسا صرف اسی صورت میں کر سکتے ہیں جب ان کی ملازمت کو پورا ایک سال مکمل ہو جائے۔بغیر پیشگی اجازت لیے حاملہ ہونے والی خواتین پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔کمپنی کی اس پالیسی کو سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سرکاری خبر رساں ادارے چائنا یوتھ ڈیلی کے مبصر کا کہنا ہے کہ کمپنی اپنے ملازمین کو انسانوں کے بجائے پیداواری حصول کے ایک آلے کے طور پر دیکھ رہی ہے۔کمپنی کی اس پالیسی سے ملازمین ناخوش ہیں۔ ایک ملازم نے شکوہ کیا کہ حمل کے بارے میں گارنٹی سے کچھ کہنا ناممکن ہے تو پھر اس بارے میں کمپنی کے طے کیے گئے شیڈول پر عمل کیسے کیا جا سکتا ہے۔کمپنی نے حال ہی میں کئی نوجوان خواتین کو بھرتی کیا ہے اور انھیں خدشہ ہے کہ ایک ہی وقت میں کئی خواتین زچگی کی وجہ سے چھٹی پر ہوں گی۔اے ایف پی کا کہنا ہے کہ کمپنی کے نمائندہ نے ان اطلاعات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے مجوزہ پالیسی پر ملازمین سے رائے مانگی ہے۔کمپنی کے منصوبے کے تحت ایسی شادی شدہ خواتین جن کی ملازمت کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے صرف انھیں ہی چھٹی پر جانے کی اجازت ملے گی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ملازمین کو سختی سے اپنے دیے گئے شیڈول پر عمل کرنا ہو گا اور اگر کوئی خاتون اپنے دیے گئے پلان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حاملہ ہوئی اور اس کا کام متاثر ہوا، تو اسے ایک ہزار ین یا 102 پاونڈ جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔اس کے ساتھ ساتھ انھیں ترقی اور بونس سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔چین نے سختی سے ایک بچہ پیدا کرنے کی پالیسی نافذ کر رکھی ہے۔



زیرو پوائنٹ

سانو۔۔ کی

سانو ۔۔کی پنجابی زبان کا ایک محاورہ یا ایکسپریشن ہے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے‘ ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے‘ ہمارا کیا نقصان ہے یاپھر آئی ڈونٹ کیئر‘ ہم پنجابی لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک اوسطاً دن میں تیس چالیس مرتبہ یہ فقرہ ضرور دہراتے ہیں لہٰذا اس کثرت استعمال کی وجہ ....مزید پڑھئے‎

سانو ۔۔کی پنجابی زبان کا ایک محاورہ یا ایکسپریشن ہے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے‘ ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے‘ ہمارا کیا نقصان ہے یاپھر آئی ڈونٹ کیئر‘ ہم پنجابی لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک اوسطاً دن میں تیس چالیس مرتبہ یہ فقرہ ضرور دہراتے ہیں لہٰذا اس کثرت استعمال کی وجہ ....مزید پڑھئے‎