پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

446 ادویات جعلی تیارکئے جانے کا انکشاف، سینٹرل ڈرگز ٹیسٹنگ لیبارٹری سے ادویات کے جعلی ہونے کی تصدیق کے بعد عوام کو خطرے سے آگاہ کر دیا گیا

datetime 15  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وزارت صحت کی جانب سے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ملک میں مختلف اقسام کی 446 جعلی ادویات تیار کیے جانے انکشاف کیا گیا ہے۔قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران وزارت صحت کی جمع کرائے گئے تحریری جواب میں بتایا گیا ہے کہ

سال 2015 میں 202، سال 2016 میں 96، سال 2017میں 86، سال 2018 میں 41 اور سال 2019 میں 24 جعلی ادویات جعلی تیار کی گئیں۔قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے جواب میں بتایا گیا کہ سینٹرل ڈرگز ٹیسٹنگ لیبارٹری سے ادویات کے جعلی ہونے کی تصدیق کے بعد عوام کو ممکنہ خطرے سے آگاہ کر دیا گیا۔تحریری جواب میں بتایا گیا کہ 2015 میں ماروی فارما سوٹیکلز کراچی نے ایمکوف نامی کھانسی کا جعلی شربت تیار کیا، 2018 میں کے او ایچ ایس فارماسوٹیکلز حیدرآباد نے سیمو ڈرل ایکسپیکٹورنٹ جعلی تیار کیا۔2018 ہی میں ایورسٹ فارما سوٹیکلز اسلام آباد نے زیرو ڈول ٹیبلٹس جعلی تیار کیں۔امروز فارما سوٹیکلز کراچی نے امرو پائیرون انجیکشن جعلی اور غیر معیاری تیار کیا۔ ایس۔جے اینڈ جی۔ فضل الہی کراچی نامی کمپنی نے میگنیٹ سسپنشن جعلی تیار کیا۔تحریری جواب میں بتایا گیا کہ امروز فارما اسلام آباد نے کوئینوزیف 250 ملی گرام گولیاں جعلی تیار کیں جب کہ ایورسٹ فارما سوٹیکلز اسلام آباد نے کارڈول گولیاں جعلی تیار کیں۔اس کے علاوہ گابا فارماسوٹیکلز کراچی نے گلتران گولیاں اور کلورفینی رمین سیرپ جعلی تیار کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…