ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

شوگر کے مریضوں کیلئے’’ذہین جوتا‘‘ تیار،حیرت انگیز خصوصیات

datetime 9  اکتوبر‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)ذیابیطس کے مریضوں کیلئے بہت ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنے پیروں کا خصوصی خیال رکھیں۔اسی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے نیو جرسی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے پی ایچ ڈی طالب علم لین لی نے تحقیق کے بعد بونبوٹن نامی کمپنی بنائی ہے جس نے جوتے کے اندر لگانے والا ذہین برقی تل(سمارٹ الیکٹرک سول)بنایا ہے جسے کسی بھی عام جوتے کے اندر رکھا جاسکتا ہے۔ اس میں مضبوط سینسر لگے ہیں جو گرافین سے بنائے گئے ہیں۔یہ سینسر پیر کے تلوے کے مختلف مقامات پر دبا کو نوٹ کرتے رہتے ہیں اور اس کے درجہ

حرارت میں تبدیلی کو دیکھتے رہتے ہیں۔ جیسے ہی ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ کسی قسم کی سوزش یا اندرونی جلن بڑھ رہی ہے تو اس میں موجود بلیو ٹوتھ فوری طور پر اس کی اطلاع ایک ایپ کے ذریعے مریض کے سمارٹ فون تک بھیجتا ہے۔ساتھ ہی ایپ بتاتی ہے کہ آپ کو کس طرح کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ دوسری جانب جوتے کا سمارٹ سول آپ کے ڈاکٹروں اور عزیزوں کو بھی اطلاع دیتا ہے کہ پیر میں زخم پڑنے کے امکانات بڑھ چکے ہیں۔سول کے اندر چھوٹی اور باریک بیٹریاں لگی ہیں جو مسلسل چار ماہ تک پورے نظام کو بجلی دے سکتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…