اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

شوگر کے مریضوں کیلئے’’ذہین جوتا‘‘ تیار،حیرت انگیز خصوصیات

datetime 9  اکتوبر‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)ذیابیطس کے مریضوں کیلئے بہت ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنے پیروں کا خصوصی خیال رکھیں۔اسی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے نیو جرسی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے پی ایچ ڈی طالب علم لین لی نے تحقیق کے بعد بونبوٹن نامی کمپنی بنائی ہے جس نے جوتے کے اندر لگانے والا ذہین برقی تل(سمارٹ الیکٹرک سول)بنایا ہے جسے کسی بھی عام جوتے کے اندر رکھا جاسکتا ہے۔ اس میں مضبوط سینسر لگے ہیں جو گرافین سے بنائے گئے ہیں۔یہ سینسر پیر کے تلوے کے مختلف مقامات پر دبا کو نوٹ کرتے رہتے ہیں اور اس کے درجہ

حرارت میں تبدیلی کو دیکھتے رہتے ہیں۔ جیسے ہی ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ کسی قسم کی سوزش یا اندرونی جلن بڑھ رہی ہے تو اس میں موجود بلیو ٹوتھ فوری طور پر اس کی اطلاع ایک ایپ کے ذریعے مریض کے سمارٹ فون تک بھیجتا ہے۔ساتھ ہی ایپ بتاتی ہے کہ آپ کو کس طرح کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ دوسری جانب جوتے کا سمارٹ سول آپ کے ڈاکٹروں اور عزیزوں کو بھی اطلاع دیتا ہے کہ پیر میں زخم پڑنے کے امکانات بڑھ چکے ہیں۔سول کے اندر چھوٹی اور باریک بیٹریاں لگی ہیں جو مسلسل چار ماہ تک پورے نظام کو بجلی دے سکتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…