9دن تک مسلسل ناریل کے استعمال سے آپ کے جسم میں کیا تبدیلی آتی ہے ؟جان کر آپ آزمائے بغیر رہ نہ سکیں گے

  بدھ‬‮ 8 جون‬‮ 2016  |  9:54

اسلام آباد(نیوزڈیسک )آپ نے ناریل تو ضرور کھایا ہوگا اور اس کے پانی سے بھی لطف اندوز ہوئے ہوں گے لیکن اگر آپ کو بتایا جائے کہ روزانہ 9دن تک ناریل پانی پینے سے جسم میں غیر معمولی مثبت تبدیلیاں اور توانائی آتی ہے تو آپ یقیناناریل پانی اپنی خوراک کا حصہ بنا لیں گے۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ناریل پانی میں فائبر کی کثیر مقدار پائی جاتی ہے اور اس کے استعمال سے مدافعتی نظام مضبوط ہونے کے ساتھ جسم بیکٹیریا،وائرس اور متعدی امراض سے بچ جاتا ہے۔یہ مختلف طرح کی انفیکشنز اور بیماریوں کے خلاف بہت تیزی سے کام کرتا ہے۔اس میں موجود فائبر کی وجہ سے معدے کی کارکردگی بہتر ہوجاتی ہے اور انسان قبض،سینے کی جلن،بدہضمی وغیر ہ سے بچ جاتا ہے۔ایسے افراد جنہیں گردوں میں پتھری کے مسائل درپیش ہوں اگر وہ باقاعدگی سے ناریل پانی پئیں تو ان کی پتھری ٹوٹ کر پیشاب کے راستے نکل جائے گی۔ناریل پانی پیشاب کی انفیکشن اور مثانے کے جملہ امراض کے لئے بھی بہت مفید ہے اور پیشاب میں آسانی پیدا کرتا ہے۔
ناریل کے پانی سے جسم میں فوری توانائی آتی ہے اور ساتھ ہی یہ آپ کی تھکان اوربے خوابی کو ختم کرکے آپ کو پرسکون بنادے گا لہذا جب بھی کوئی بھاری کام کریں یا ورزش کے بعد انرجی ڈرنک کی جگہ اس کا استعمال کریں۔یہ انسانی جلد کے لئے بھی بہت مفید ہے اور جسم میں پانی کمی کو پورا کرنے کے ساتھ جلد کو چمکدار اور خوبصورت بناتا ہے۔آپ کو چاہیے کہ مہنگی اور مضر جلد کریمیں لگانے کی بجائے ناریل پانی کو صاف اور چمکدار جلد کے لئے ترجیح دیں۔اگر آپ 9دن تک روزانہ ناریل پانی پئیں تو یہ تمام فوائد آپ کوحاصل ہوجائیں گے اور آپ کو ایسا محسوس ہوگا جیسے آپ کا جسم پلکاپھلکا اور تازہ دم ہوگیا ہے۔



زیرو پوائنٹ

تیونس تمام

حبیب علی بورقیبہ تیونس کے بانی ہیں‘ وکیل اور سیاست دان تھے‘ قائداعظم محمد علی جناح اور اتاترک کے فین تھے اورپاکستان کی تشکیل کے وقت مصر میں پناہ گزین تھے‘ پاکستان بنا تو حبیب علی بورقیبہ نے قائداعظم کو مبارک باد کا ٹیلیکس بھجوایا اور اس کے ساتھ ہی تیونس اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کا آغاز ہو گیا‘ ....مزید پڑھئے‎

حبیب علی بورقیبہ تیونس کے بانی ہیں‘ وکیل اور سیاست دان تھے‘ قائداعظم محمد علی جناح اور اتاترک کے فین تھے اورپاکستان کی تشکیل کے وقت مصر میں پناہ گزین تھے‘ پاکستان بنا تو حبیب علی بورقیبہ نے قائداعظم کو مبارک باد کا ٹیلیکس بھجوایا اور اس کے ساتھ ہی تیونس اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کا آغاز ہو گیا‘ ....مزید پڑھئے‎