بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کے ڈیفالٹ کے دور دور تک نشان نہیں: ملک بوستان

datetime 7  جون‬‮  2023 |

کراچی(این این آئی)چیئرمین پاکستان فاریکس ایکسچینج ایسوسی ایشن ملک بوستان نے کہاہے کہ روز کہا جا رہا ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ کر جائے گا، خدا کا خوف کریں، ڈیفالٹ کا اتنا ڈھنڈورا نہ پیٹیں، پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا دور دور تک نشان نہیں۔میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا ہے کہ ڈالر 315 سے 320 روپے کے درمیان چلا گیا تھا، کریڈٹ کارڈ کی پیمنٹ 10 سے 15 ملین ڈالرز یومیہ تھی۔

ہمارے پاس سپلائی 5 سے 7 ملین ڈالرز ہے، مارکیٹ میں اتنا والیم نہیں تھا، جب ڈالر کی طلب آئی تو نرخ بڑھنے ہی تھے۔انہوں نے کہاکہ وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کو آگاہ کیا کہ بینک کریڈٹ کارڈ ہولڈرز کے لیے ڈالر خرید رہے ہیں، وزیرِ خزانہ نے ہدایت کی کہ کریڈٹ کارڈ کی پیمنٹ بینک ریٹ پر ہو گی۔چیئرمین پاکستان فاریکس ایکسچینج ایسوسی ایشن نے کہاکہ حج فلائٹس ہیں، عازمینِ حج کے لیے بھی ڈالر کی ڈیمانڈ ہے، حج فلائٹس مکمل ہوں گی، عید پر اوورسیز پاکستانی آئیں گے، ڈالر کا ریٹ گرے گا۔انہوں نے کہا کہ قوم کسی حال میں خوش نہیں ہوتی، حکومت ڈالر کے ریٹ بڑھاتی ہے تو کہتے ہیں کیوں بڑھا رہے ہیں؟ حکومت ڈالر کے ریٹ نہیں بڑھاتی تو کہتے ہیں نرخ بڑھا کیوں نہیں رہے؟ملک بوستان نے کہاکہ ملک میں 10 ارب ڈالرز زرِ مبادلہ موجود ہے، 28 ماہ میں پہلی بار کرنٹ اکائونٹ سر پلس ہوا ہے، ڈالر کی قیمت مارکیٹ میں اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے۔انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف نے حکومت کو تگنی کا ناچ نچایا ہوا ہے، آئی ایم ایف روز نیا مطالبہ کرتا ہے، ان کی وجہ سے پینیک آیا ہوا ہے، 6 ماہ سے ڈیڈ لاک ہے۔چیئرمین پاکستان فاریکس ایکسچینج ایسوسی ایشن ملک بوستان نے کہا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی بات کر لی، لیکن آئی ایم ایف کی میں نہ مانوں والی بات ہے، اب اللہ کا شکر ہے انہوں نے کہا ہے کہ اسٹاف لیول کی میٹنگ ہونے والی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…