’’پاکستان اور ترکی کے درمیان ٹرین سروس ایک دہائی بعد بحال‘‘ پہلی ٹرین کتنے دن بعد استنبول سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگی

  پیر‬‮ 1 مارچ‬‮ 2021  |  21:10

اسلام آباد(مانیٹر نگ ڈیسک)ایک دہائی بعد پاکستان اور ترکی کے درمیان کارگو ٹرین سروس بحال ہو گئی۔تفصیلات کے مطابق نو سال کے وقفے کے بعد ترکی اور پاکستان کے درمیان کارگو ٹرین دوبارہ بحال ہو رہی ہے، اس سلسلے میں پہلی ٹرین 4 مارچ کو استنبول سے اسلام آباد کے لیےروانہ ہوگی۔نجی ٹی وی اے آر وائی کے مطابق پاکستان کی وزارت ریلویز کا کہنا ہے کہ 4 مارچ کو استنبول سے تجارتی سامان لے کر کارگو ٹرین ایران سے ہوتی ہوئی پاکستان پہنچے گی۔استنبول سے سفر شروع کرنے والی کارگو ٹرین 12 روز بعد 16 مارچ کو اسلام آباد


کے ڈرائی پورٹ پر پہنچے گی، یہ ٹرین ایران کے شہر زاہدان سے کوئٹہ اور پھر اسلام آباد آئے گی، جہاں وزیر ریلوے اعظم خان سواتی اس کا استقبال کریں گے۔پاک ترکی کارگو ٹرین 12 روز میں مجموعی طور پر ساڑھے 6 ہزار کلو میٹر فاصلہ طے کرے گی، ٹرین کی واپسی 19 مارچ کو ہوگی۔پاکستان نے ترکی سے آنے والی کارگو ٹرین سے متعلق اکنامک کوآرڈیشن آرگنائزیشن (ای سی او) سے رابطہ کر لیا ہے، ایرانی حکام کو بھی آگاہ کیا جا چکا ہے۔یاد رہے ترکی اور پاکستان کے درمیان کارگو ٹرین کا آغاز 14 اگست 2009 میں ہوا تھا، آخری کارگو ٹرین اسلام آباد سے استنبول کے لیے 5 نومبر 2011 کو روانہ ہوئی تھی جب کہ ترکی سے آخری کارگو ٹرین 9 دسمبر 2011 کو پہنچی تھی، جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کارگو ٹرین سروس معطل ہو گئی، اس دوران ترکی سے پاکستان میں 6 کارگو ٹرینیں آئیں۔کارگو ٹرین ہر مہینے کی پہلی جمعرات کو روانہ ہوا کرے گی، اس ٹرین کی لمبائی 420 میٹر ہے، کارگو ٹرین ایران تک 90 گھنٹے اور ایران سے پاکستان تک 135 گھنٹے سفر کرے گی۔


زیرو پوائنٹ

راﺅنڈ اباﺅٹ

اندر کمار گجرال بھارت کے 12 ویں وزیراعظم تھے‘ یہ 1997ءاور 1998ءکے درمیان ایک سال وزیراعظم رہے‘ اٹل بہاری واجپائی ان کے بعد وزیراعظم بنے تھے‘ گجرال جہلم میں پیدا ہوئے تھے‘ ان کی ساری تعلیم جہلم اور لاہور کی تھی اور یہ دل سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر دیکھنا چاہتے تھے‘ میاں نواز شریف کے ....مزید پڑھئے‎

اندر کمار گجرال بھارت کے 12 ویں وزیراعظم تھے‘ یہ 1997ءاور 1998ءکے درمیان ایک سال وزیراعظم رہے‘ اٹل بہاری واجپائی ان کے بعد وزیراعظم بنے تھے‘ گجرال جہلم میں پیدا ہوئے تھے‘ ان کی ساری تعلیم جہلم اور لاہور کی تھی اور یہ دل سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر دیکھنا چاہتے تھے‘ میاں نواز شریف کے ....مزید پڑھئے‎