لاہور (این این آئی) نجی یونیورسٹی میں 21سالہ طالبہ کے اقدام خود کشی کے معاملے پر پولیس نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا اور تفتیش میں بڑے انکشافات سامنے آ گئے۔پولیس حکام کے مطابق طالبہ کے لواحقین کی جانب سے تاحال کسی قسم کی قانونی کارروائی کیلئے درخواست جمع نہیں کرائی گئی، طالبہ اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہے، اس کی ریڑھ کی ہڈی اور پھیپھڑوں پر گہرے زخم آئے ہیں جس کی وجہ سے طالبہ کا بیان ریکارڈ نہیں کیا جا سکا۔ہسپتال کے ڈاکٹر فاروق افضل اور پروفیسر جودت سلیم نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ طالبہ فاطمہ کی حالت میں بہتری آئی ہے ،برین انجری کی وجہ سے بچی کی حالت تشویشناک ہوئی، بچی ہمارے پاس گزشتہ روز ڈیڑھ بجے لائی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ طالبہ کی چھاتی پر بہت زیادہ انجریز تھیں ، بچی کو دو خون کی بوتلیں کل اور آج لگائی گئی،فاطمہ کے علاج میں بہتری کی امید ہے۔ پولیس کے مطابق طالبہ فاطمہ کے تمام ضروری ٹیسٹ دوبارہ کئے گئے ہیں اور اہل خانہ سے بھی مختلف پہلوئوں پر معلومات حاصل کی گئی ہیں۔واقعے کی مکمل تفصیل جاننے کیلئے یونیورسٹی اور اطراف میں نصب تمام سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجزبھی تحویل میں لے لی گئی ہے جن کی مدد سے حالات و واقعات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔اس سے چند روز قبل بھی اسی یونیورسٹی میں ڈی فارم کے ایک طالب علم نے بلڈنگ کی چوتھی منزل سے کود کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا۔دوسری جانب ابتدائی تفتیش میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔
پولیس کے مطابق طالبہ 7بج کر 58منٹ پر یونیورسٹی آئی تاہم وہ یونیورسٹی آنے کے بعد کلاس میں نہیں گئی ۔فاطمہ دوسری منزل سے کودنے سے قبل 27منٹ تک فون پر بات کرتی رہی اور 8بج کر 30منٹ پر اس نے دوسری منزل سے چھلانگ لگادی۔ پولیس تفتیش کے مطابق طالبہ نے کودنے سے قبل آخری کال موبائل سے ڈیلیٹ کردی ۔پولیس تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ بھائیوں نے لڑکی کا پرانا موبائل خراب ہونے پر واقعے سے ایک روز قبل ہی اسے نیا موبائل لے کر دیا تھا۔ لڑکی کے دونوں بھائیوں کے تفصیلی بیان بھی ریکارڈ کیے جارہے ہیں ۔پولیس کے مطابق یونیورسٹی میں ہونے والے ٹیسٹ میں طالبہ نے 35میں سے 18نمبر لیے تھے اور حاصل کردہ نمبروں سے غیر مطمئن ہونے کے حوالے سے اس نے اپنے والد اور بھائیوں کو بتایا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے ۔ اقدام خودکشی کی حتمی وجہ کا تعین جلد کرلیا جائے گا ۔














































