بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

ایرانی سپریم لیڈر کی موت پر اظہار افسوس کرنے پر سابق گورنرپنجاب چوہدری محمد سرور کو بیٹے نے تنقید کا نشانہ بنا دیا

datetime 3  مارچ‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اسکاٹش لیبر پارٹی کے قائد انس سرور نے اپنے والد اور پنجاب کے سابق گورنر چوہدری محمد سرور کی جانب سے

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت پر جاری تعزیتی بیان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اسے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے والد کے مؤقف سے مکمل اختلاف رکھتے ہیں اور اسے درست نہیں سمجھتے۔چوہدری محمد سرور، جو ماضی میں گلاسگو سے لیبر پارٹی کے رکن پارلیمنٹ بھی رہ چکے ہیں، نے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں ایرانی رہنما کی موت کے بعد اردو میں ایک پیغام جاری کیا تھا۔ اپنے بیان میں انہوں نے آیت اللہ خامنہ ای کو “شہید” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ مسلم دنیا ایک مضبوط مزاحمتی آواز سے محروم ہو گئی ہے اور وہ ایرانی عوام کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

دوسری جانب گلاسگو ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انس سرور نے اس بیان کی کھل کر مخالفت کی۔ ان کے مطابق ایرانی رہنما ایک سخت گیر حکمران تھے جن پر اپنے شہریوں کے خلاف جبر، ہمسایہ ممالک کو دھمکانے اور شدت پسند سرگرمیوں کی پشت پناہی جیسے الزامات عائد ہوتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سب سے اہم ضرورت خطے میں کشیدگی کم کرنا اور جنگ کے خطرے کو ٹالنا ہے، جس میں ایران کی جوہری صلاحیتوں کا خاتمہ اور مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کا قیام شامل ہونا چاہیے۔

42 سالہ انس سرور نے صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے تسلیم کیا کہ وہ اپنے والد کی سوشل میڈیا سرگرمی پر شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے قدرے مزاحیہ انداز میں کہا کہ عام طور پر بھی لوگ بعض اوقات اپنے والدین کے بیانات سے خجالت محسوس کرتے ہیں، لیکن یہاں معاملہ عوامی نوعیت کا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے پر ان کی اپنے والد سے کوئی گفتگو نہیں ہوئی اور دونوں کے خیالات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…