اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

آیت اللہ خامنہ ای ایک ہاتھ چادر کے نیچے کیوں ڈھانپ کر رکھتے تھے؟

datetime 3  مارچ‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ہفتے کی صبح امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے اچانک حملے کے نتیجے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای جاں بحق ہو گئے۔

آیت اللہ خامنہ ای سپریم لیڈر بننے سے قبل ایران کے صدر بھی رہ چکے تھے۔ وہ 9 اکتوبر 1981ء سے 16 اگست 1989ء تک اس منصب پر فائز رہے۔ صدارتی انتخاب کے دوران ہی انہیں ایک قاتلانہ حملے کا سامنا کرنا پڑا تھا جس میں وہ محفوظ رہے، تاہم اس واقعے کے باعث ان کا دایاں بازو مستقل طور پر متاثر ہو گیا تھا۔

یہ حملہ 27 جون 1981ء کو اس وقت پیش آیا جب وہ ایران عراق جنگ کے محاذ سے واپسی کے بعد ایک مسجد میں نماز کی ادائیگی کے لیے گئے تھے۔ نماز کے بعد وہ اپنے حامیوں کے سوالات کے جواب دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک نوجوان، جس نے چیکرڈ کوٹ پہن رکھا تھا، کاغذات کے ساتھ ایک ٹیپ ریکارڈر ان کے سامنے رکھ گیا۔ کچھ ہی دیر بعد وہ آلہ آواز دینے لگا اور پھر زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔

اس دھماکے کے نتیجے میں ان کے دائیں بازو کے علاوہ آواز کی تاروں اور پھیپھڑوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ صحت یابی میں کئی ماہ لگے اور ان کا بازو ہمیشہ کے لیے مفلوج ہو گیا۔ اسی وجہ سے وہ اکثر اپنا دایاں ہاتھ چادر میں چھپائے رکھتے تھے۔

شدید زخمی ہونے کے باوجود انہوں نے حوصلہ نہیں ہارا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دماغ اور زبان صحیح کام کر رہے ہوں تو ایک ہاتھ کی کمی رکاوٹ نہیں بنتی۔ بعد ازاں انہوں نے بائیں ہاتھ سے لکھنے کی مشق کی اور آہستہ آہستہ مذہبی قیادت کے اہم حلقوں میں نمایاں مقام حاصل کر لیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…