اسلام آباد(نیوز ڈ یسک)پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور عظیم بلے باز جاوید میانداد اپنے سابق ساتھی اور قریبی دوست عمران خان کا ذکر کرتے ہوئے جذباتی ہوگئے
اور دوران گفتگو ان کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ایک انٹرویو میں جاوید میانداد نے عمران خان کے ساتھ اپنے کئی دہائیوں پر محیط تعلقات اور کرکٹ کے سفر کو یاد کیا۔
انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ معاملات کو محاذ آرائی کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔سابق کپتان کا کہنا تھا کہ تمام افراد پاکستانی ہیں، اس لیے اختلافات کو مزید بڑھانے کے بجائے بیٹھ کر مسئلے کا قابلِ قبول حل تلاش کرنا چاہیے۔
انہوں نے سوال کیا کہ عمران خان سے آخر ایسا کیا خطرہ ہے کہ معاملات اس حد تک پہنچ گئے ہیں۔عمران خان کے ساتھ گزرے وقت کو یاد کرتے ہوئے جاوید میانداد جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان بھی کسی کے بیٹے ہیں اور انہیں اکثر یہ خیال آتا ہے کہ وہ اس وقت کن حالات سے گزر رہے ہوں گے۔جاوید میانداد نے بتایا کہ ان کا اور عمران خان کا تعلق محض قومی ٹیم تک محدود نہیں تھا بلکہ دونوں نے انگلینڈ میں کاؤنٹی کرکٹ بھی ایک ساتھ کھیلی۔
اس کے علاوہ دونوں نے طویل عرصے تک پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے میدان میں بھی ساتھ وقت گزارا۔سابق کرکٹر نے اس موقع پر ایک مرتبہ پھر زور دیا کہ ملک میں موجود اختلافات اور مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے نکالا جانا چاہیے اور معاملات کو غیر ضروری طور پر طول دینے سے گریز کیا جائے۔



















































