پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

کپتانی اور ٹیم سے نکالے جانے کے بعد سوریا کمار یادیو کا ردعمل سامنے آگیا

datetime 8  جون‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)بھارتی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے سابق کپتان سوریا کمار یادیو نے ٹیم کی قیادت سے ہٹائے جانے اور قومی اسکواڈ میں جگہ نہ ملنے کے فیصلے پر پہلی بار ردِعمل دیا ہے۔ انہوں نے اس معاملے پر ناراضی ظاہر کرنے کے بجائے نئے کپتان شریاس ائیر کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

ممبئی میں ایک مقامی کرکٹ میچ کے دوران ٹاس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سوریا کمار یادیو نے کہا کہ انہیں شریاس ائیر کی بطور کپتان تقرری پر خوشی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں نے ممبئی کی کرکٹ میں ایک ساتھ سفر کیا ہے اور یہ بات دلچسپ ہے کہ بھارت کے حالیہ تین ٹی ٹوئنٹی کپتان، روہت شرما، سوریا کمار یادیو اور شریاس ائیر، تینوں کا تعلق ممبئی سے ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شریاس ائیر کے پاس قائدانہ صلاحیتیں موجود ہیں اور وہ امید کرتے ہیں کہ ٹیم ان کی قیادت میں مزید کامیابیاں حاصل کرے گی۔

دوسری جانب بھارتی چیف سلیکٹر اجیت اگرکر نے حالیہ پریس کانفرنس میں وضاحت کی تھی کہ سوریا کمار یادیو کو قیادت سے ہٹانے کا فیصلہ ان کی موجودہ فارم اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔ ان کے مطابق ٹیم انتظامیہ اگلے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے نئی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔

اجیت اگرکر نے بتایا کہ شریاس ائیر کو آئرلینڈ اور انگلینڈ کے دوروں کے علاوہ آئندہ ایشین گیمز کے لیے بھی ٹیم کی قیادت سونپی گئی ہے، تاکہ مستقبل کے بڑے ایونٹس کے لیے ایک مضبوط اور متوازن اسکواڈ تیار کیا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…