پی سی بی نے ہال آف فیم میں شامل کھلاڑیوں کی فہرست جاری کر دی ،عمران خان سمیت کونسے کھلاڑی شامل

  پیر‬‮ 12 اپریل‬‮ 2021  |  12:11

اسلام آباد (این این آئی)پی سی بی ایوارڈز میں نوازنے کے بعد اب قومی کرکٹ کی نامور شخصیات کی خدمات کو سراہنے کے لیے یہ ایک نیا قدم اٹھایا گیا ہے۔ابتدائی طور پر آئی سی سی کرکٹ ہال آف فیم میں شامل چھ اراکین، حنیف محمد، عمران خان، جاوید میانداد، وسیم اکرم، وقار یونس اور ظہیر عباس کو پی سی بی ہال آف فیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔ آگے بڑھتے ہوئےہر سال ( بشمول رواں سال ) مزید تین شخصیات پی سی بی ہال آف فیم میں شامل کی جائیں گی۔ ان شخصیات کا انتخاب ایک آزاد پینل کرے


گا۔ پی سی بی ہال آف فیم میں شامل ہونے والی نئی شخصیات کا اعلان ہر سال اکتوبر کی 16 تاریخ کو کیا جائے گا، یہ وہی دن ہے جب پاکستان نے سن 1952 میں پہلی مرتبہ ٹیسٹ کرکٹ کا آغاز کیا تھا۔بین الاقوامی کرکٹ سے کم از کم پانچ سال قبل ریٹائر ہونے والے کھلاڑی ہی پی سی بی ہال آف فیم میں شمولیت کے اہل ہوں گے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ کا درجہ ملنے سے اب تک پاکستان نے بہت سیایسے لیجنڈری اور نامور کرکٹرز پیدا کیے ہیں کہ جنہوں نے نہ صرف شاندار کارکردگی کامظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ کو دنیا کے نقشے پر اجاگر کیا ہے بلکہ اپنی بھی ایک پہچان بنائی ہے۔انہوں نے کہا کہ پی سی بی ہال آف فیم بھی اپنے نامور کھلاڑیوں کی خدمات کا اعتراف کرنے کا ایک انداز ہے۔ انہوں نے کہاکہ ابتدائی طور پر آئی سی سی کرکٹ ہال آف فیم میں شامل چھ پاکستانی پی سی بی ہال آف فیم کا حصہ ہوں گے، جس کے بعد ہر سال تین نئی شخصیات اس کا حصہ بنتی چلی جائیں گی۔احسان مانی نے کہا کہ ابتدائی طور پر حنیف محمد، عمران خان،جاوید میانداد، وسیم اکرم، وقار یونس اور ظہیر عباس پی سی بی ہال آف فیم کا حصہ ہوں گے اور ان شخصیات سے پی سی بی ہال آف فیم کا آغاز اس لیے بھی موزوں ہے کہ یہ تمام شخصیات کی اعلیٰ معیاری نے آئندہ نسلوں کوبہت متاثر کیا ہے۔


زیرو پوائنٹ

استنبول یا دہلی ماڈل

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎

میاں نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں‘ استنبول یا دہلی‘ ہم ان آپشنز کو ترکی یا انڈین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ہم پہلے ترکی ماڈل کی طرف آتے ہیں‘ رجب طیب اردگان 1954ء میں استنبول میں قاسم پاشا کے علاقے میں پیدا ہوئے‘ غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے‘ سکول سے واپسی پر گلیوں میں شربت بیچتے تھے‘بڑی مشکل ....مزید پڑھئے‎