جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

قومی ٹی 20 کپ میں انعامات کی بارش،بڑی رقم مختص

datetime 22  ستمبر‬‮  2020 |

لاہور( آن لائن )ملک بھر سے تعلق رکھنے والے محدود طرز کی کرکٹ کے بہترین کھلاڑی 30 ستمبر سے ملتان میں شروع ہونیوالے نیشنل ٹی ٹونٹی کپ میں جلوہ گر ہوںگے۔ ڈومیسٹک کرکٹ سیزن 21-2020 کے اس ابتدائی ٹورنامنٹ میں مجموعی طورپر تقریبا 90 لاکھ روپے کی انعامی رقم تقسیم ہوگی۔ ایونٹ کی فاتح ٹیم کو 50 لاکھ روپے کی انعامی رقم دی جائیگی

جبکہ دوسری فائنلسٹ ٹیم 25 لاکھ روپے کی حقدار ٹھہریگی،ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی، بیٹسمین، بالر اور وکٹ کیپر کو ایک ایک لاکھ روپے کی انعامی رقم بھی دی جائے گی۔سیزن کے پہلے ٹورنامنٹ کے دوران ہر میچ کے بہترین کھلاڑی کو 25 ہزار روپیدئیے جائیں گے جبکہ ڈبل لیگ کی بنیاد پر کھیلے جانے والے اس ایونٹ کے مین آف دی فائنل کو بطور انعام 35 ہزار روپے ملیں گے۔ایونٹ کا فائنل 18 اکتوبر کو پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی میں کھیلا جائے گا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ٹورنامنٹ میں تقسیم ہونے والی یہ تقریبا 90 لاکھ روپے کی انعامی رقم ڈومیسٹک کنٹریکٹ کے حامل کھلاڑیوں کو ملنے والے ماہوار وظیفے اور میچ فیس کے علاوہ ہے۔ادھر سیزن 21-2020 کا ڈومیسٹک کنٹریکٹ حاصل کرنے والا ایک کرکٹر ماہوار وظیفے اور میچ فیس کی مد میں سالانہ 18 سے 32 لاکھ روپے (کٹیگری کے اعتبار سے ) کمائے گا۔ عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کے لیے پرکشش انعامی رقم کا اعلان پاکستان کرکٹ بورڈ کی اس پالیسی کے عین مطابق ہے جس کا مقصد ڈومیسٹک کرکٹ کے معیار کو مزید بہتر بنانا ہے۔ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس ندیم خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے کرکٹ سے حاصل ہونے والے پیسے کو واپس کرکٹرز کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کو ہی اپنا ہدف بنا رکھا ہے اور یہی وجہ ہے کہ نیشنل ٹی ٹونٹی کپ میں مجموعی طور پر تقریبا 90 لاکھ روپے کی انعامی رقم مختلف انداز سے کھلاڑیوں میں تقسیم کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماہوار وظیفے اور میچ فیس کی مد میں پی سی بی پہلے ہی کھلاڑیوں کی کمائی کا ایک نیا اور پرکشش اسٹرکچر متعارف کرواچکا ہے، اب کوویڈ 19 کے دوران ڈبل لیگ کی بنیاد پر کھیلا جانے والا یہ ایونٹ کھلاڑیوں کی آمدن کو بھی دگنا کردے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…