قومی ٹی 20 کپ میں انعامات کی بارش،بڑی رقم مختص

  منگل‬‮ 22 ستمبر‬‮ 2020  |  17:45

لاہور( آن لائن )ملک بھر سے تعلق رکھنے والے محدود طرز کی کرکٹ کے بہترین کھلاڑی 30 ستمبر سے ملتان میں شروع ہونیوالے نیشنل ٹی ٹونٹی کپ میں جلوہ گر ہوںگے۔ ڈومیسٹک کرکٹ سیزن 21-2020 کے اس ابتدائی ٹورنامنٹ میں مجموعی طورپر تقریبا 90 لاکھ روپے کی انعامی رقم تقسیم ہوگی۔ ایونٹ کی فاتح ٹیم کو 50 لاکھ روپے کی انعامی رقم دی جائیگیجبکہ دوسری فائنلسٹ ٹیم 25 لاکھ روپے کی حقدار ٹھہریگی،ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی، بیٹسمین، بالر اور وکٹ کیپر کو ایک ایک لاکھ روپے کی انعامی رقم بھی دی جائے گی۔سیزن کے پہلے ٹورنامنٹ کے دوران ہر میچ


کے بہترین کھلاڑی کو 25 ہزار روپیدئیے جائیں گے جبکہ ڈبل لیگ کی بنیاد پر کھیلے جانے والے اس ایونٹ کے مین آف دی فائنل کو بطور انعام 35 ہزار روپے ملیں گے۔ایونٹ کا فائنل 18 اکتوبر کو پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی میں کھیلا جائے گا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ٹورنامنٹ میں تقسیم ہونے والی یہ تقریبا 90 لاکھ روپے کی انعامی رقم ڈومیسٹک کنٹریکٹ کے حامل کھلاڑیوں کو ملنے والے ماہوار وظیفے اور میچ فیس کے علاوہ ہے۔ادھر سیزن 21-2020 کا ڈومیسٹک کنٹریکٹ حاصل کرنے والا ایک کرکٹر ماہوار وظیفے اور میچ فیس کی مد میں سالانہ 18 سے 32 لاکھ روپے (کٹیگری کے اعتبار سے ) کمائے گا۔ عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کے لیے پرکشش انعامی رقم کا اعلان پاکستان کرکٹ بورڈ کی اس پالیسی کے عین مطابق ہے جس کا مقصد ڈومیسٹک کرکٹ کے معیار کو مزید بہتر بنانا ہے۔ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس ندیم خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے کرکٹ سے حاصل ہونے والے پیسے کو واپس کرکٹرز کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کو ہی اپنا ہدف بنا رکھا ہے اور یہی وجہ ہے کہ نیشنل ٹی ٹونٹی کپ میں مجموعی طور پر تقریبا 90 لاکھ روپے کی انعامی رقم مختلف انداز سے کھلاڑیوں میں تقسیم کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماہوار وظیفے اور میچ فیس کی مد میں پی سی بی پہلے ہی کھلاڑیوں کی کمائی کا ایک نیا اور پرکشش اسٹرکچر متعارف کرواچکا ہے، اب کوویڈ 19 کے دوران ڈبل لیگ کی بنیاد پر کھیلا جانے والا یہ ایونٹ کھلاڑیوں کی آمدن کو بھی دگنا کردے گا۔


زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎