بدھ‬‮ ، 11 مارچ‬‮ 2026 

سرفراز احمد نے ٹیسٹ کرکٹ کی قیادت چھوڑنے کا عندیہ دے دیا،سیریز میں ناکام کیوں ہوئے؟اصل وجہ بتادی

datetime 7  دسمبر‬‮  2018 |

ابوظہبی(آئی این پی) پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے ٹیسٹ کرکٹ کی قیادت چھوڑنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیم کی کارکردگی اسی طرح رہی تو ٹیسٹ کرکٹ کی قیادت چھوڑنے کا سوچنا پڑے گا، بہت ہو چکا، ہمیں اب نتائج کے بارے میں سنجیدگی کے ساتھ سوچنا ہوگا، ابوظہبی میں ہم دونوں ٹیسٹ جیت کی پوزیشن میں آکر ہارے ، وقت آگیا ہے کہ سب اپنی ذمہ داری کو ادا کرنا سمجھیں،ہم نے سیریز خود اپنے ہاتھ سے گنوائی، ٹاپ آرڈر اور ٹیل اینڈرز کو ذمہ داری دکھانا ہوگی،

مثبت سوچ کے ساتھ میدان میں نہیں اتریں گے تو ایسے ہی نتائج آئیں، مجموعی طور پر بولنگ کی کارکردگی اچھی رہی لیکن بیٹنگ میں محنت کرنا پڑے گی،دورہ جنوبی افریقا سے قبل خامیوں پر ورک آوٹ کرنا پڑے گا۔ابوظہبی کا تیسرا ٹیسٹ 123رنز اور نیوزی لینڈ کیخلاف تین ٹیسٹ پر مشتمل سیریز 1-2 سے ہارنے والے قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے واضح کیا ہے کہ بہت ہو چکا، ہمیں اب نتائج کے بارے میں سنجیدگی کے ساتھ سوچنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کیخلاف متحدہ عرب امارات میں ٹیسٹ سیریز ہارنا افسوسناک ہے، ابوظہبی میں ہم دونوں ٹیسٹ جیت کی پوزیشن میں آکر ہارے ہیں، اسے اتنی آسانی سے مان لینا مشکل ہوگا۔ان کا کہنا ہے کہ لڑکے محنت نہیں کرتے اور کوچز بتاتے نہیں، یہ سب کہنا فضول ہوگا، حقیقت یہ ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ سب اپنی ذمہ داری کو ادا کرنا سمجھیں۔سرفرار احمد نے کہا کہ لمبی اننگز کھیلنے والے کھلاڑی ہمیں ٹیسٹ کرکٹ میں چاہیئیں، اوپنرز کو نئی گیند کے ساتھ وقت گزارنے کی وکٹ پر عادت ڈالنا ہوگی۔ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم یو اے ای میں نہیں جیت سکتے تو جنوبی افریقا میں فتح کے بارے میں سوچنا حیران کن ہی ہوگا، ہارنا کسی کو اچھا نہیں لگتا اور بطور کپتان میں بھی خوش نہیں ہوں، میں سمجھتا ہوں، اچھا کھیلنا لیکن ہار جانا، اس بات کی وضاحت آپ کیلئے مشکل ہو جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ

فی الحال ٹیسٹ کرکٹ کی قیادت چھوڑنے کے بارے میں کچھ نہیں سوچ رہا، اگر حالات یہی رہے تو پھر سوچنا پڑے گا، خاص طور پر دورہ جنوبی افریقا اس معاملے میں اہم بھی ہو سکتا ہے، وہاں ہمیں صرف مثبت سوچ کے ساتھ کھیلنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقا کا دورہ ایک مشکل اور کٹھن دورہ ہے، جسے آپ بالکل آسان نہیں کہہ سکتے، جنوبی افریقا کے دورے کے بعد کم ازکم چھ ماہ کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں اگر نتائج مثبت نہ ہوئے تو جنوبی افریقا کے دورے کے بعد

ٹیسٹ کی کپتانی کو لے کر ضرور سوچ بیچار کروں گا۔ دوسری جانب ٹیسٹ سیریز میں مین آف دی سیریز قرار دئیے جانے والے یاسر شاہ نے کہا ہے کہ 29 وکٹ حاصل کیں اور اتنا اچھا پرفارم کرنے کے بعد شکست ہونا مایوس کن ہے۔واضح رہے کہ نیوزی لینڈ نے پاکستان کو ابوظبی ٹیسٹ میں شکست دے کر سیریز 1-1 سے جیت لی، قومی ٹیم 280 رنز کے تعاقب میں 156 رنز پر ڈھیر ہوگئی، نیوزی لینڈ کے کپتان ولیم سن کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…