اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

جرمن ہیڈ کوچ نے فٹبال ٹیم میں نسل پرستی کا الزام مسترد کردیا

datetime 30  اگست‬‮  2018 |

برلن (سپورٹس ڈیسک)جرمن فٹبال ٹیم کے ہیڈ کوچ یوآخیم لوو نے نامور فٹبالر میسوط اوزل کے ٹیم میں نسل پرستی کا الزام مسترد کردیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق جرمنی کی ورلڈ کپ میں ناکامی پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹیم کے ہیڈ کوچ نے کہاکہ اوزل نے نسل پرستی کا الزام لگایا تاہم میں کہہ سکتا ہوں کہ جرمن فٹبال ایسوسی ایشن (ڈی ایف بی) میں کبھی نسل پرستی پر مبنی آراء سامنے نہیں آئی۔

انہوں نے 6 ستمبر کو عالمی چمپئن فرانس سے مقابلے کے حوالے سے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مہاجر کھلاڑیوں نے ہمیشہ ہمارے لیے کھیل کر خوشی محسوس کی ہے اور اب بھی کچھ نہیں بدلا ہے۔واضح رہے کہ 2006 سے ٹیم کے ہیڈ کوچ لوو نے 22 جولائی کو میسوط اوزل کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا پہلی دفعہ جواب دیا ہے۔خیال رہے کہ نامور جرمن فٹبالر میسٹ اوزل نے نسل پرستی کا سامنا کرنے پر جرمنی کے لیے کھیلنے سے انکار کرتے ہوئے ٹیم چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔انگلش پریمیر لیگ کے کلب آرسینل کے لیے کھیلنے والے مڈفیلڈر نے 4 صفحے پر مشتمل اپنے بیان میں جرمن فٹبال ایسوسی ایشن کے سربراہان، اسپانسرز اور میڈیا کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔اس موقع پر انہوں نے خصوصاً اپنے ملک کی فٹبال فیڈریشن کے صدر رین ہارڈ گرنڈل کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا تھا کہ لوگوں کے غلط رویے پر انہوں نے میرا ساتھ نہیں دیا۔اوزل نے لکھا تھا کہ گرنڈل اور ان کے حامیوں کی نظر میں ٗمیں صرف اس وقت جرمن ہوں جب ہم جیتیں، لیکن جب ہم ہاریں تو میں ایک تارک وطن ہوں۔جرمن ہیڈ کوچ کا کہنا تھا کہ میسوط اوزل کے مشیر نے مجھے اطلاع دی تھی کہ ان کے بیان کا تیسرا حصہ وہ جاری کریں گے، اوزل نے خود مجھ سے کبھی رابطہ نہیں کیا جو عام طور پر کھلاڑی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ مستقبل میں میرا ان سے ذاتی طور پر رابطہ ہوجائے گا لیکن انہوں نے جو راہ چنی ہے مجھے وہ قبول کرہی ہوگی۔

خیال رہے کہ ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل مئی میں میسوط اوزل نے ترکی کے صدر طیب اردوان کے ساتھ تصویر کھنچوائی تھی جس پر تنازع کھڑا ہو گیا تھا اور ان کی جرمنی کے لیے حب الوطنی پر سوالات اٹھائے گئے۔ترک انتخابات سے قبل اردوان سے ملاقات میں اوزل نے انہیں اپنی آرسینل کی شرٹ بھی پیش کی تھی جس پر عزت ماب صدر کے لیے مکمل احترام کیساتھ کے الفاظ تحریر تھے۔

بعد ازاں تنازع پر 29سالہ فٹبالر نے کہا تھا کہ میں خود کو جرمن بھی سمجھتا ہوں اور ترک بھی اور میں عالمی کپ سے قبل صدر طیب اردوان کے ساتھ ملاقات کے ذریعے کوئی سیاسی پیغام نہیں دینا چاہتا تھا۔یاد رہے کہ کہ دفاعی چمپئن جرمنی کی ٹیم عالمی کپ 2018 کے پہلے ہی راؤنڈ میں باہر ہو گئی تھی اور عالمی کپ میں جرمنی کی اس خراب کارکردگی کا ذمے دار خصوصی طور پر اوزل کو قرار دیا جا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…