اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

بھارت سے میچ کے دوران محمد عامر کی انجری مشکوک ہوگئی،کوچ مکی آرتھر نے بڑا اعلان کردیا

datetime 5  جون‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

برمنگھم (آئی این پی)مکی آرتھر نے کہا کہ وہ مکمل طور پر فٹ تھے۔عامر کا پٹھہ کھنچنے کے بارے میں ایک سوال پر انھوں نے کہا ٹورنامنٹ کے ابتدائی میچوں میں ایسا نہیں ہوتا اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر وہ ٹیم کی میڈیکل ٹیم سے بات کریں گے۔پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ مکی آرتھر نے کہا ہے کہ انڈیا کے خلاف میچ میں فاسٹ بولر وہاب ریاض کو ٹیم شامل کرنے کا فیصلہ ان کا تھا جس کی وہ پوری ذمہ داری لیتے ہیں۔

اس میچ میں وہاب ریاض نے غیرمعیاری بولنگ کرتے ہوئے آٹھ اعشاریہ چار اوور میں 87 رنز دیے جو چیمپیئنز ٹرافی کی تاریخ میں کسی بھی بولر کی بدترین کارکردگی ہے۔میچ کے بعد پاکستان کی مایوس کن کارکردگی کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے مکی آرتھر نے کہا کہ وہاب ریاض کو کھلانے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ پاکستانی ٹیم کے پاس زیادہ سے زیادہ آپشن یا متبادل ہوں۔انھوں نے کہا کہ محمد عامر، حسن علی اور جنید خان کی رفتار کم و بیش ایک جیسی ہے اور وہاب ریاض کو اس لیے کھلایا گیا کہ ٹیم کے پاس ایک تیز رفتار بالر بھی موجود ہو۔اس میچ سے ایک دو دن پہلے تک وہاب ریاض کی فٹنس کے بارے میں شکوک و شبہات پائے جاتے تھے اس بارے میں ایک سوال کے جواب میں مکی آرتھر نے کہا کہ وہ مکمل طور پر فٹ تھے۔عامر کا پٹھہ کھنچنے کے بارے میں ایک سوال پر انھوں نے کہا ٹورنامنٹ کے ابتدائی میچوں میں ایسا نہیں ہوتا اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر وہ ٹیم کی میڈیکل ٹیم سے بات کریں گے۔پاکستان کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم بدقسمتی سے بنیادی چیزیں ہی درست نہیں کر پائے۔یہاں انھوں نے کیچ ڈراپ ہونے کا ذکر بھی کیا۔ انھوں نے کہا کہ وکٹوں کے درمیان دوڑنا اور کیپر کو تھرو پھینکا ایسی ہی بنیادی چیزیں ہیں جو ٹیم درست طریقے سے نہیں کر پائی۔

ویراٹ کوہلی نے بھی میچ کے پریس کانفرنس میں کہا کہ انڈیا نے بھی ایک اور تیز رفتار بولر کو کھلانے کا فیصلہ وکٹ کو دیکھتے ہوئے کیا تھا۔انھوں نے کہا کہ وہ بھی ٹاس جیتے تو بولنگ کرنے کا فیصلہ کرتے لیکن پاکستان نے طرح یہ فیصلہ کیا اس سے انھیں یہ محسوس ہوا کہ وہ ہدف کا پیچھا نہیں کرنا چاہتے اور چھ کی اوسط سے زیادہ رن انھیں مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔

پاکستان سے کرکٹ کھیلنے کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ انڈیا کے اعلی حکام کو کرنا ہے۔انھوں نے کہا کہ وہ کرکٹ کھیلنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ مد مقابل کون ہے لیکن پاکستان کے ساتھ کھیلتے ہوئے جس قسم کا ماحول بن جاتا ہے اس سے کرکٹ کھیلنے میں زیادہ مزا آتا ہے۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…