جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

میلبورن ٹیسٹ، آسٹریلوی کپتان کی چالاکی،شائقین کی شدید تنقید،نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا

datetime 28  دسمبر‬‮  2016 |

میلبورن(آئی این پی) باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں لنچ کا وقفہ جلد کرنے پر امپائرز تنقید کی زد میں آگئے،آسٹریلوی کپتان کا مطالبہ تسلیم کئے جانے پر پاکستان ٹیم کے ہیڈ کوچ بھی ناخوش دکھائی دیئے،بڑی ٹیموں کی من مانیوں پر شائقین نے بھی سوشل میڈیا پرجی بھرکربھڑاس نکالی۔تفصیلات کے مطابق میلبورن میں جاری ٹیسٹ میچ میں پہلا سیشن مکمل ہونے سے قبل ہی بوندا باندی ہوئی، بارش کا خدشہ موجود تھا لیکن کنڈیشنز اس قابل تھیں کہ کھیل جاری رکھا جاسکے، اس صورتحال میں میزبان کپتان اسٹیون اسمتھ کوتشویش تھی کہ 80 اوورز پورے ہوچکے، نئی گیند لی توبارش کی وجہ سے گیلی ہوجائے گی، نہ لی تو پاکستان کو آسانی سے مزید رنز بنانے کا موقع ملے گا،

اسٹیون اسمتھ نے جاکرامپائرای این گولڈ سے بات کی، انہوں نے سندرام روی سے مشاورت کے بعد لنچ کا وقفہ قبل از وقت کرنے کا اعلان کردیا، یوں کینگروزکپتان نے کمال چالاکی سے اپنا مقصد حاصل کرلیا، اس فیصلے پر ڈریسنگ روم میں موجود مہمان ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر قطعی طور پر خوش دکھائی نہیں دیئے۔بگ تھری کے زعم میں مبتلا بھارت، انگلینڈ اورآسٹریلیا کے کپتانوں کی طرف سے امپائرز پر یوں اثر انداز ہونے پر پاکستانی شائقین خاصے برہم نظر آتے ہیں،

سوشل میڈیا پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اظہر علی اوراسد شفیق کی ثابت قدمی سے مایوسی کا شکاراسٹیون اسمتھ کا بار بار گیند لے کر امپائرز کے پاس جانا اور مرضی کا فیصلہ مسلط کروالینا کرکٹ کیلیے اچھی بات نہیں، یہ تو مہمان بیٹسمینوں سے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ بیٹنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں یا نہیں،کئی آسٹریلوی شائقین بھی فیصلے کو ناجائز اور سپورٹس مین سپرٹ کے منافی قرار دیتے رہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل برسبین ٹیسٹ کے چوتھے روز بھی ہدف کا تعاقب کرنے والی پاکستان ٹیم پر دبا برقراررکھنے کیلیے اسٹیون اسمتھ نے امپائرزسے درخواست کرکے فلڈ لائٹس میں اوورز پورے کیے لیکن اسد شفیق اور وہاب ریاض نے فاضل وقت میں تسلسل کیساتھ رنز بٹورکر ان کا حربہ ناکام کردیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…