ہفتہ‬‮ ، 13 جون‬‮ 2026 

’’ مشکل وقت آیا تو سب نے ہی آنکھیں پھیر لیں‘‘ اب میرا ’’گول ‘‘ کیا ہے ؟ سعید اجمل نے واضح اعلان کر دیا

datetime 18  دسمبر‬‮  2016 |

لاہور( آن لائن ) قومی کرکٹ ٹیم کے آف اسپنر سعید اجمل نے کہ ہے کہ ساری توجہ اور فوکس پاکستان سپر لیگ پر ہے ، کوشش ہوگی کہ پی سی ایل میں عمدہ کارکردگی دکھا کر وہ دوبارہ پاکستانی کرکٹ ٹیم میں جگہ سنا سکوں ،’میں بالکل مایوس نہیں ہوں۔ میں نے پاکستان کے لیے جو کچھ بھی کیا ہے اس پر میں بہت خوش ہوں تاہم جب میرا بولنگ ایکشن صحیح ہونے لگا تو مجھے کرکٹ کھیلنے کو نہ مل سکی۔ مجھے تنہا چھوڑدیا گیا اور جو سپورٹ مجھے ملنی چاہیے تھی وہ نہیں ملی۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کو ایک انٹرویو میں آف اسپنر نے کہا کہ اس سال میں نے قومی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں اور میں پرامید ہوں کہ مجھے دوبارہ پاکستان کی نمائندگی کا موقع ملے گا۔ میری نظریں پاکستان سپر لیگ پر ہیں کہ اس میں اچھی کارکردگی دکھا کر دوبارہ پاکستانی ٹیم میں آسکوں۔
‘سعید اجمل کو اس بات کا گلہ ہے کہ مشکل وقت آیا تو سب نے ہی آنکھیں پھیر لیں۔جب میرا بولنگ ایکشن صحیح ہونے لگا تو مجھے کرکٹ کھیلنے کو نہ مل سکی۔ مجھے تنہا چھوڑدیا گیا اور جو سپورٹ مجھے ملنی چاہیے تھی وہ نہیں ملی۔’پاکستان کرکٹ بورڈ نے یقیناً میرے بولنگ ایکشن پر کام کیا اور اخراجات بھی اٹھائے جس پر میں اس کا شکرگزار ہوں لیکن جب میرا بولنگ ایکشن صحیح ہونے لگا تو مجھے کرکٹ کھیلنے کو نہ مل سکی۔ مجھے تنہا چھوڑدیا گیا اور جو سپورٹ مجھے ملنی چاہیے تھی وہ نہیں ملی۔‘’پرانے دوست تو میرے ساتھ رہے لیکن کرکٹ کی دنیا کے دوست احباب سب اپنے اپنے کاموں میں لگے رہے اور سب نے مجھ سے آنکھیں پھیرلیں۔‘کرکٹ کے میدان میں اپنی مسکراہٹ کے ساتھ زندہ دل کرکٹر کے طور پر پہچانے جانے والے سعید اجمل موجودہ صورتحال میں حوصلہ ہار کر میدان چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔’میں ہمیشہ فرنٹ فٹ پر کھیلا ہوں۔ بیک فٹ پر نہیں کھیلا۔ میں آج بھی خود کو ذہنی طور پر بہت مضبوط سمجھتا ہوں۔
اگر میں سمجھوں گا کہ میں پیچھے رہ گیا ہوں تو خود ہی کرکٹ کو خیرباد کہہ دوں گا۔‘’جہاں تک پاکستان کرکٹ بورڈ نے مجھے رخصت کرنے کی بات کی تھی وہ باقاعدہ طور پر مجھ سے نہیں کی گئی تھی۔ فی الحال میرا دل نہیں کررہا کرکٹ چھوڑنے کو۔‘میں ہمیشہ فرنٹ فٹ پر کھیلا ہوں۔ بیک فٹ پر نہیں کھیلا۔ میں آج بھی خود کو ذہنی طور پر بہت مضبوط سمجھتا ہوں۔ اگر میں سمجھوں گا کہ میں پیچھے رہ گیا ہوں تو خود ہی کرکٹ کو خیرباد کہہ دوں گا’یہ میرے لیے بڑے دکھ کی بات تھی کیونکہ اس وقت میں ورلڈ نمبر ایک بولر تھا اور میں ورلڈ کپ میں بہت کچھ کر دکھانے کی تیاری کر رہا تھا۔ میرے علاوہ کئی دوسرے بولرز بھی مشکوک بولنگ ایکشن کی زد میں آئے لیکن بعد میں وہ سب ایک ایک کرکے کلیئر ہوتے چلے گئے.

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…