جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

’’ مشکل وقت آیا تو سب نے ہی آنکھیں پھیر لیں‘‘ اب میرا ’’گول ‘‘ کیا ہے ؟ سعید اجمل نے واضح اعلان کر دیا

datetime 18  دسمبر‬‮  2016 |

لاہور( آن لائن ) قومی کرکٹ ٹیم کے آف اسپنر سعید اجمل نے کہ ہے کہ ساری توجہ اور فوکس پاکستان سپر لیگ پر ہے ، کوشش ہوگی کہ پی سی ایل میں عمدہ کارکردگی دکھا کر وہ دوبارہ پاکستانی کرکٹ ٹیم میں جگہ سنا سکوں ،’میں بالکل مایوس نہیں ہوں۔ میں نے پاکستان کے لیے جو کچھ بھی کیا ہے اس پر میں بہت خوش ہوں تاہم جب میرا بولنگ ایکشن صحیح ہونے لگا تو مجھے کرکٹ کھیلنے کو نہ مل سکی۔ مجھے تنہا چھوڑدیا گیا اور جو سپورٹ مجھے ملنی چاہیے تھی وہ نہیں ملی۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کو ایک انٹرویو میں آف اسپنر نے کہا کہ اس سال میں نے قومی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں اور میں پرامید ہوں کہ مجھے دوبارہ پاکستان کی نمائندگی کا موقع ملے گا۔ میری نظریں پاکستان سپر لیگ پر ہیں کہ اس میں اچھی کارکردگی دکھا کر دوبارہ پاکستانی ٹیم میں آسکوں۔
‘سعید اجمل کو اس بات کا گلہ ہے کہ مشکل وقت آیا تو سب نے ہی آنکھیں پھیر لیں۔جب میرا بولنگ ایکشن صحیح ہونے لگا تو مجھے کرکٹ کھیلنے کو نہ مل سکی۔ مجھے تنہا چھوڑدیا گیا اور جو سپورٹ مجھے ملنی چاہیے تھی وہ نہیں ملی۔’پاکستان کرکٹ بورڈ نے یقیناً میرے بولنگ ایکشن پر کام کیا اور اخراجات بھی اٹھائے جس پر میں اس کا شکرگزار ہوں لیکن جب میرا بولنگ ایکشن صحیح ہونے لگا تو مجھے کرکٹ کھیلنے کو نہ مل سکی۔ مجھے تنہا چھوڑدیا گیا اور جو سپورٹ مجھے ملنی چاہیے تھی وہ نہیں ملی۔‘’پرانے دوست تو میرے ساتھ رہے لیکن کرکٹ کی دنیا کے دوست احباب سب اپنے اپنے کاموں میں لگے رہے اور سب نے مجھ سے آنکھیں پھیرلیں۔‘کرکٹ کے میدان میں اپنی مسکراہٹ کے ساتھ زندہ دل کرکٹر کے طور پر پہچانے جانے والے سعید اجمل موجودہ صورتحال میں حوصلہ ہار کر میدان چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔’میں ہمیشہ فرنٹ فٹ پر کھیلا ہوں۔ بیک فٹ پر نہیں کھیلا۔ میں آج بھی خود کو ذہنی طور پر بہت مضبوط سمجھتا ہوں۔
اگر میں سمجھوں گا کہ میں پیچھے رہ گیا ہوں تو خود ہی کرکٹ کو خیرباد کہہ دوں گا۔‘’جہاں تک پاکستان کرکٹ بورڈ نے مجھے رخصت کرنے کی بات کی تھی وہ باقاعدہ طور پر مجھ سے نہیں کی گئی تھی۔ فی الحال میرا دل نہیں کررہا کرکٹ چھوڑنے کو۔‘میں ہمیشہ فرنٹ فٹ پر کھیلا ہوں۔ بیک فٹ پر نہیں کھیلا۔ میں آج بھی خود کو ذہنی طور پر بہت مضبوط سمجھتا ہوں۔ اگر میں سمجھوں گا کہ میں پیچھے رہ گیا ہوں تو خود ہی کرکٹ کو خیرباد کہہ دوں گا’یہ میرے لیے بڑے دکھ کی بات تھی کیونکہ اس وقت میں ورلڈ نمبر ایک بولر تھا اور میں ورلڈ کپ میں بہت کچھ کر دکھانے کی تیاری کر رہا تھا۔ میرے علاوہ کئی دوسرے بولرز بھی مشکوک بولنگ ایکشن کی زد میں آئے لیکن بعد میں وہ سب ایک ایک کرکے کلیئر ہوتے چلے گئے.

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…