جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

پاکستانی باؤلنگ اٹیک ،ٹیم میں واپسی،محمد آصف نے کھری کھری سنادیں

datetime 4  دسمبر‬‮  2016 |

حیدرآباد(این این آئی)اسپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ پاکستانی فاسٹ باؤلر محمد آصف نے کہا ہے کہ وہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) کو خط لکھنے کا سوچ رہے ہیں تاکہ یہ پتہ چلا سکیں کہ کہیں کھیلوں کی عالمی گورننگ باڈی نے تو پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) یہ ہدایت نہیں کہ ان کا قومی ٹیم میں انتخاب نہ کیا جائے۔

ایک انٹرویومیں انہوں نے کہا کہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ پی سی بی سے آئی سی سی نے کہا ہے کہ میری قومی ٹیم میں سلیکشن پر غور نہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ مجھے ہیں معلوم کہ خبر کس حد تک درست ہے ٗمیں اپنی طرف سے سیزن میں مستقل میچز کھیل رہا ہوں لہٰذا میں یقیناًآئی سی سی سے یہ پوچھنے کا ارادہ رکھتا ہوں کہ کیا انہیں میرے حوالے سے کچھ تحفظات ہیں۔اپنی فٹنس پر مکمل اطمینان کا اظہار کرنے والے محمد آصف نے باؤلنگ اسپیڈ کے بارے میں سوال پر آصف نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ دیگر کھلاڑی توپ کی رفتار سے گیند نہیں کر رہے، میں کم از کم ان جیسی رفتار سے باؤلنگ ضرور کر سکتا ہوں۔یہ بہتر ہو گا کہ اگر چیئرمین پی سی بی شہریار خان یہ بات سلیکٹرز پر چھوڑ دیں کہ مجھے اور سلمان بٹ کو کب ٹیم کا حصہ بنانا ہے لیکن سلیکٹرز کو بھی منصفانہ طرز عمل اپناتے ہوئے ان کھلاڑیوں کا انتخاب کرنا چاہیے جو اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں۔ ہمیں اپنی کارکردگی دکھانے کیلئے کیمپ میں بلانا چاہیے تھا لیکن ہمیں نظر انداز کردیا گیا تھا۔

پاکستان کے موجودگی باؤلنگ اٹیک سے متاثر نظر نہیں آئے اور کہا کہ ہم ٹیلنٹ کی بات کرتے ہیں لیکن کیا ہمارے پاس بس یہی ٹیلنٹ ہے۔ میرے خیال میں ہمارے باؤلنگ اٹیک میں کوئی خاص بات نہیں، یہ ایک اوسط درجے کا باؤلنگ اٹیک ہے۔ کچھ خاص کرنے کیلئے سخت محنت کرنی پڑتی ہے۔اور یقیناًچند کھلاڑیوں میں یہ خداداد صلاحیت ہے۔ میں نے اب پورا سیزن کھیل لیا ہے لیکن مجھے راحت علی، سہیل خان یا عمران خان میں کوئی خاص بات نظر نہیں آئی۔فاسٹ باؤلر نے متحدہ عرب امارات میں تیار کی جانے والی سلو وکٹوں پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایسی وکٹیں ملتی ہیں جو اسپنرز کو مدد فراہم کریں۔ یقیناً ہم نے وہاں میچز جیتے اور ہماری رینکنگ بھی بہتر ہوئی لیکن حقیقت یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات کی وکٹوں پر مستقل کھیلنے سے ہماری کرکٹ کا معیار گر رہا ہے۔

نیوزی لینڈ میں پاکستانی بلے بازوں کی کارکردگی پر برہم آصف نے کہا کہ نیوزی لینڈ کی نسبت آسٹریلیا کی وکٹیں بہتر ہوں گی لیکن ہمیں پھر بھی اسی طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔انہوں نے نوجوان کھلاڑیوں کو تیار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ میں پانچ سال بعد کرکٹ میں واپس آیا ہوں لیکن پی سی بی نے میرا متبادل تیار نہیں کیا۔ انہیں واپس عامر کی طرف متوجہ ہونا پڑا جو کسی حد تک بہتر باؤلنگ کر رہا ہے لیکن دوسرے اینڈ سے سپورت نہ ملنے کے سب وہ وکٹیں نہیں لے پا رہا کیونکہ فاسٹ باؤلر عام طور پر جوڑیوں کی شکل میں شکار کرتے ہیں لیکن آج کل ایسا نہیں ہو رہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…