جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

انجری کے بعد میرے ساتھ کیا سلوک کیا گیا ؟ مستقبل میں میں کونسے ملک میں رہنا چاہوں گا؟ جنید خان کا تہلکہ خیز انکشافات

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(آئی این پی)پاکستانی کر کٹ ٹیم کے فا سٹ باؤلر جنید خان نے کہا ہے کہ انجری کے بعد مجھے کارکردگی دکھانے کا مناسب موقع نہیں دیا گیا،ڈومیسٹک سیزن اور انگلینڈ اے کیخلاف شاندار کارکردگی کے باوجود مجھے نظر انداز کیا گیا،سو فیصد فٹ ہوں بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں بہترین کارکردگی دکھاکر پاکستان ٹیم میں ایک بارپھر اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرؤں گا، میرے خاندان کے کافی لوگ انگلینڈ میں آباداور میری بیوی کا تعلق بھی وہیں سے، ممکن ہے مستقبل میں کسی مقام پر انگلینڈ میں رہائش اختیار کرنے بارے سوچوں، فی الوقت میری پہلی ترجیح پاکستان کیلئے کرکٹ کھیلنا ہے،میں آج جو کچھ ہوں وہ پاکستان کرکٹ کی مرہون منت ہے جسے میں کبھی بھلا نہیں سکتا۔اپنے ایک انٹرویو میں فاسٹ باؤلر جنید خان نے کہا کہ انجرڈ ہونے سے پہلے انٹرنیشنل کرکٹ میں میری باؤلنگ اور پرفارمنسز لاجواب تھیں، فاسٹ بولرز کے لئے ایشیائی وکٹوں پر اچھی کارکردگی پیش کرنا ایک دقت طلب اور انتہائی مشکل کام ہے۔
صحتیاب ہونے کے بعد مجھے اپنی کارکردگی دکھانے کا مناسب موقع نہیں دیا گیا ، پینٹینگولر کپ کے بہترین بولرز میں سے ایک تھا، اس کے بعد میں نے پاکستان سپر لیگ کے پہلے ایڈیشن میں بھی بہترین بولنگ کی اور انگلینڈ اے کے خلاف پاکستان اے کی نمائندگی کرتے ہوئے بھی بہترین پرفارمنسز پیش کیں۔ مجھے گھٹنے کی تکلیف کے بعد بنگلہ دیش اور سری لنکا کے خلاف منتخب کیا گیا جہاں مجھ سے چند کیچز ڈراپ ہوئے اور تبھی سے مجھے نظر انداز کیا جارہا ہے۔ اس وقت 100فیصد فٹ ہوں، مسلسل ڈومیسٹک اور پاکستان اے کی جانب سے کرکٹ کھیل رہا ہوں جس سے صاف ظاہر ہے کہ میری فٹنس کے کوئی مسائل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میری عمر ابھی صرف 26سال کی ہے میں اپنی جگہ بنانے کے لئے لڑنے کے لئے تیار ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ میری بہترین کرکٹ کے دن ابھی آنے ہیں، میں ایک بولر کی حیثیت سے ابھی تک اپنی معراج پر نہیں پہنچا ہوں۔بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں بہترین پرفارمنسز کی بنیاد پر پاکستان ٹیم میں ایک بارپھر اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرؤں گا۔
پاکستان چھوڑ کر انگلینڈ میں جانے کی خبرؤں کی تردید کرتے ہوئے جنید خان نے کہا کہ میری پہلی ترجیح پاکستان کے لئے کرکٹ کھیلنا ہے، میں آج جو کچھ ہوں وہ پاکستان کرکٹ کی مرہون منت ہے جسے میں کبھی بھلا نہیں سکتا۔میرے خاندان کے کافی لوگ انگلینڈ میں آباداور میری بیوی کا تعلق بھی وہیں سے ہے جس کی وجہ سے ممکن ہے کہ مستقبل میں کسی مقام پر انگلینڈ میں رہائش اختیار کرنے کے متعلق غور کروں لیکن فی الوقت میری ترجیح یہی ہے کہ پاکستان میں رہوں اور اسی کیلئے ہی کھیلوں،میں اس وقت صرف اور صرف پاکستان ٹیم میں واپسی کو اپنا ہدف بنائے ہوئے ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…