منگل‬‮ ، 10 مارچ‬‮ 2026 

ٹیم تھکاوٹ کی وجہ سے ہاری،مکی آرتھر،مصباح نے سچ بتاکرقوم سے معافی مانگ لی

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

شارجہ (این این آئی)قومی ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے ویسٹ انڈیز کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میچ میں شکست پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم غلطیاں کرتے چلے گئے جس کے سبب مہمان ٹیم کے خلاف ناقابل شکست رہنے کا نادر موقع گنوا دیا۔مصباح الحق نے میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میچ میں شکست مایوس کن ہے، مجموعی طور پر ہم نے اپنے معیار کے مطابق کھیل پیش نہیں کیا، ہماری بیٹنگ اور فیلڈنگ بہت بری تھی۔ویسٹ انڈیز نے ڈسپلن سے کھیلا اور ہم غلطیاں کرتے چلے گئے اور ہار گئے۔ موزوں کنڈیشنز میں خود سے انتہائی نچلی درجے پر موجود ٹیم سے ٹیسٹ میچ ہارنا زیادہ بڑا دھچکا ہے۔ حریف ٹیم چاہے کتنا ہی اچھا کھیلے لیکن آپ کو اس کے بعد انتہائی مضبوطی کے ساتھ میچ میں واپسی کی ضرورت ہوتی ہے۔چوتھے دن کے کھیل کے بعد گرین شرٹس کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کی وجہ سیریز کی طوالت کے سبب کھلاڑیوں کی تھکاوٹ کو قرار دیا تاہم مصباح الحق نے اس سے اتفاق نہ کرتے ہوئے کہا کہ

سیریز جیتنے کے بعد کھلاڑی مطمئن ہو گئے تھے جب آپ کی سیریز زیادہ طویل ہو تو آپ مطمئن ہو جاتے ہیں اور میرے خیال میں ہمارے ساتھ بالکل یہی ہوا۔ ہم نے ممکنہ طور پر مخالف ٹیم کو زیادہ اہمیت نہیں دی جس کی وجہ سے ابتدائی میچوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور تیسرے میچ میں زیادہ غلطیاں کیں۔ہماری ذہن میں ایک ہی چیز تھی کہ ہر میچ کو یکساں اہمیت دی جائے۔ جب آپ عالمی نمبر ایک یا نمبر دو ٹیم ہوتے ہیں تو آپ کو اپنی ساکھ برقرار رکھنے کیلئے ہر میچ ایک خاص معیار کے مطابق کھیلنا پڑتا ہے۔مصباح نے کہا کہ اگلی سیریز سے قبل ہمیں سمجھنا ہو گا کہ وہ کتنی مشکل ہوں گی، ہما جانتے ہیں کہ ہم جیت سکتے ہیں اور ہم میں دنیا میں کسی بھی جگہ میچ جیتنے کی صلاحیت موجود ہے۔انہوں نے سلپ میں کیچ چھوٹنے پر سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید پر کہا کہ سلپ میں کیچ پکڑنا کبھی بھی آسان نہیں ہوتا اور ایسا صرف وہ کہہ سکتے ہیں جنہوں نے کرکٹ نہ کھیلی ہو۔ سلپ کے کیچ کبھی آسان نہیں ہوتے اور حتیٰ کہ بہترین فیلڈرز بھی کیچ ڈراپ کر دیتے ہیں۔پاکستان کو ٹیسٹ سیریز کے دوران ٹیم کا توازن برقرار رکھنے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پرا جہاں مسلسل ناکامی کے باوجود محمد نواز کو مواقع فراہم کیے جاتے رہے لیکن مصباح نے اس کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہم ساتویں نمبر کیلئے ایک آل راؤنڈر تیار کرنا چاہتے ہیں جیسے ویسٹ انڈیز کے پاس جیسن ہولڈر موجود ہے۔ یہ نواز کی پہلی سیریز تھی اور وہ بہت محنت کر رہے ہیں لہٰذا انہیں کچھ وقت درکار ہے۔قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان نے دوسری اننگز میں ذوالفقار بابر سے محض چار اوور کرانے کا ذمے دار شارجہ کی وکٹ کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا جواب ان گراؤنڈز مین سے لیں جنہں نے وکٹ بنائی، اگر گیند پانچویں دن بھی ٹرن نہیں ہو گی تو ہم اسپنرز سے کیسے گیند کرا سکتے ہیں؟۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…